مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
ہفتہ، 3 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 430,384 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,513 USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 430,384 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,513
قومی

محدود ٹیکس بیس ریاستی مالیاتی صلاحیت کو کمزور کرتا ہے، علی عمران آصف کا انتباہ

📅 جمعرات، 04 جون 2026 ✍️ Dost news ⏱ 3 منٹ
محدود ٹیکس بیس ریاستی مالیاتی صلاحیت کو کمزور کرتا ہے، علی عمران آصف کا انتباہ
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

لاہور (دوست نیوز رپورٹ) — لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر ایگزیکٹو کمیٹی ممبر علی عمران آصف نے کہا ہے کہ پاکستان میں برسوں سے جاری ٹیکس اصلاحات اور معیشت کو دستاویزی بنانے کے دعوؤں کے باوجود، ٹیکس نیٹ کی محدود وسعت ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہر دور میں حکومت ریونیو شارٹ فال پورا کرنے کے لیے نئے ٹیکس دہندگان کو شامل کرنے کے بجائے پہلے سے رجسٹرڈ اور نظر آنے والے ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈالنے کو ترجیح دیتی ہے۔

محدود ٹیکس بیس ریاستی مالیاتی صلاحیت کو کمزور کرتا ہے

علی عمران آصف کے مطابق، معیشت کو حقیقی معنوں میں دستاویزی بنانے کے لیے مضبوط ادارہ جاتی صلاحیت، سیاسی عزم اور پالیسیوں میں طویل المدتی تسلسل درکار ہے، لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں اس کا فقدان ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ٹیکس کی شرح میں اضافہ، سرچارجز کا نفاذ اور آڈٹ کی سختی محصولات کے اہداف کو پورا کرنے کے نسبتاً آسان اقدامات سمجھے جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ٹیکس نظام میں بنیادی اصلاحات کے بجائے عارضی اقدامات کو ترجیح دی جاتی رہی ہے۔

قرضوں میں اضافہ اور مہنگائی کا بوجھ

انہوں نے مزید کہا کہ محدود اور غیر متوازن ٹیکس بیس ریاستی مالیاتی صلاحیت کو کمزور کرتا ہے، قرضوں پر انحصار بڑھاتا ہے اور حکومت کو بالواسطہ ٹیکسوں اور پیٹرولیم لیویز کے ذریعے آمدن حاصل کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں مہنگائی کا دباؤ بڑھتا ہے جس کا سب سے زیادہ بوجھ تنخواہ دار اور کم آمدنی والے طبقات برداشت کرتے ہیں۔

علی عمران آصف نے واضح کیا کہ اگرچہ بعض شعبوں کے لیے تھرڈ شیڈول کے دائرہ کار میں توسیع کا فوری جواز موجود ہو سکتا ہے تاہم اصل ضرورت ایک ایسے منصفانہ ٹیکس نظام کی تشکیل ہے جو وسیع پیمانے پر معاشی سرگرمیوں کو رسمی معیشت کا حصہ بنائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک ٹیکس تعمیل کو کاروباری لحاظ سے فائدہ مند اور غیر رسمی معیشت کو محدود نہیں کیا جاتا، ریونیو اہداف کا حصول مشکل رہے گا۔

مزید پڑھیں

ٹیگز: #پاکستان معیشت #ٹیکس اصلاحات #ریونیو شارٹ فال #علی عمران آصف #لاہور چیمبر #محدود ٹیکس بیس
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں