پاکستانی افرادی قوت قطر کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، جام کمال خان
دوحہ (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال خان نے کہا ہے کہ پاکستان کی ہنرمند افرادی قوت قطر کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، جبکہ پاکستان زرعی پیداوار اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں وسیع صلاحیت کا حامل ہے۔ یہ بات انہوں نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں عالمی سرمایہ کاری فورم 2026 سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
اہم نکات
- جام کمال خان نے دوحہ میں منعقدہ عالمی سرمایہ کاری فورم 2026 میں پاکستان کی اقتصادی صلاحیتوں کو اجاگر کیا۔
- قطر بزنس مین ایسوسی ایشن کے ساتھ آئی ٹی، لاجسٹکس، زراعت اور غذائی تحفظ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
- حساد فوڈ کے چیف ایگزیکٹو کے ساتھ زرعی سپلائی چین اور طویل المدتی تجارتی شراکت داری پر بات چیت ہوئی۔
- ترکیہ کے نائب وزیر تجارت کے ساتھ توانائی، معدنیات اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔
- تین روزہ عالمی سرمایہ کاری فورم کا انعقاد 25 سے 27 اکتوبر 2026 تک کیا گیا ہے۔
پاک قطر اقتصادی تعاون
وزارت تجارت کے مطابق، وفاقی وزیر نے قطر بزنس مین ایسوسی ایشن کے چیئرمین شیخ فیصل بن قاسم الثانی سے اہم ملاقات کی۔ اس دوران پاک قطر تجارتی و اقتصادی تعاون کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے لیے تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئی ٹی، لاجسٹکس، زراعت اور غذائی تحفظ میں تعاون کو مستحکم کرنے پر زور دیا، جبکہ قطری سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی خصوصی دعوت دی گئی تاکہ کاروباری برادریوں کے درمیان براہِ راست روابط بڑھ سکیں۔
زرعی تجارت اور ٹیکنالوجی کا فروغ
جام کمال خان نے حساد فوڈ کے چیف ایگزیکٹو علی ہلال الکواری کے ساتھ تفصیلی ملاقات کی، جس میں زرعی سپلائی چین اور طویل المدتی تجارتی شراکت داری پر غور کیا گیا۔ وزیر تجارت نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان قطر کو معیاری زرعی مصنوعات فراہم کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور انہوں نے حساد فوڈ کو کراچی میں منعقد ہونے والی فوڈ ایگ 2026 میں شرکت کی دعوت بھی دی۔
پاک ترکیہ تجارتی شراکت داری
وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے ترکیہ کے نائب وزیر تجارت مصطفیٰ توزجو سے بھی ملاقات کی جس کا مقصد پاک ترکیہ دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے امکانات کا جائزہ لینا تھا۔ دونوں رہنماؤں نے زراعت، غذائی تحفظ، توانائی اور معدنیات کے شعبوں میں باہمی تعاون کو بڑھانے کا عزم ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ بہتر تجارتی روابط سے دونوں ممالک کی منڈیوں تک رسائی میں اضافہ ہوگا اور حکومت نجی شعبے کے ساتھ مل کر معاشی استحکام کے لیے کوشاں ہے۔ جام کمال خان نے ترک سرمایہ کاروں کو پاکستان کے معدنیات سمیت ترجیحی شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی، جبکہ مصنوعی ذہانت جیسے جدید شعبوں میں تعاون پر بھی گفتگو کی گئی۔
