سینیٹ کمیٹی کی ہاؤسنگ منصوبوں کے مسائل جلد حل کرنے کی ہدایت
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس نے پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی فاؤنڈیشن (پی ایچ اے ایف) اور فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی (ایف جی ای ایچ اے) کے زیر انتظام طویل عرصے سے التوا کا شکار رہائشی منصوبوں کے مسائل کو ہنگامی بنیادوں پر حل کرنے کی سخت ہدایت جاری کر دی ہے۔ سینیٹر ناصر محمود کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقدہ اجلاس میں ہاؤسنگ منصوبوں کی پیش رفت اور درپیش چیلنجز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
پی ایچ اے ایف آفیسرز ریزیڈینشیا کُری روڈ پر پیش رفت
اجلاس میں پی ایچ اے ایف آفیسرز ریزیڈینشیا کُری روڈ منصوبے کے حوالے سے پانی کی فراہمی، نکاسی آب، اسٹریٹ لائٹس اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کیلئے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کے طرز پر ہاؤسنگ سیکٹر میں بھی ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے ممبر پلاننگ ایم عمیر نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ منصوبے تک رسائی کے راستے کا دیرینہ مسئلہ ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔ کمیٹی نے سی ڈی اے کو ہدایت کی کہ رسائی سڑک کی تعمیر تین ماہ کے اندر مکمل کرکے رپورٹ جمع کرائی جائے۔
ایف جی ای ایچ اے اسکیموں پر نیب کی بریفنگ
اجلاس میں ایف جی ای ایچ اے کی ہاؤسنگ اسکیموں گرین انکلیو۔I اور اسکائی گارڈنز سے متعلق زیر التوا انکوائریز اور عدالتی معاملات کا جائزہ لیا گیا۔ قومی احتساب بیورو (نیب) کے نمائندوں نے واضح کیا کہ 2018 سے جاری انکوائریز قانونی فریم ورک کے مطابق آگے بڑھ رہی ہیں۔ اسی طرح کے انتظامی امور پر وزیر داخلہ محسن نقوی کا ڈپلومیٹک انکلیو کا دورہ، اہم ہدایات جاری کرنے کے اقدامات کی طرح، کمیٹی نے ہاؤسنگ میں شفافیت پر زور دیا۔ ایف جی ای ایچ اے کے ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ شاملات کی اراضی کی منتقلی پر پابندی ہے اور موضع کٹھڑ اور موضع منگل میں ترقیاتی اجازتوں کا معاملہ ضابطے کے مطابق دیکھا جا رہا ہے۔
سرکاری رہائش گاہوں کا قبضہ اور الاٹمنٹ کا معاملہ
کمیٹی نے سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی جانب سے اٹھائے گئے معاملے پر گریڈ 20 کے سینیٹ افسر کو الاٹ شدہ سرکاری رہائش گاہ کا قبضہ نہ ملنے کا نوٹس لیتے ہوئے وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس اور اسٹیٹ آفس کو ہدایت کی کہ 24 گھنٹے کے اندر گھر خالی کروا کر افسر کے حوالے کیا جائے۔ کمیٹی نے یاد دلایا کہ بانی پی ٹی آئی کے طبی معائنے پر عدالت کے احکامات مانیں گے، رانا ثناء اللہ جیسے معاملات کی طرح سرکاری امور میں میرٹ کا تحفظ لازم ہے۔ آخر میں، کمیٹی نے سیکریٹری ہاؤسنگ کی کارکردگی کو سراہا اور عوامی مسائل جنوری 2027 تک حل کرنے کی ڈیڈ لائن مقرر کی۔ اجلاس میں سینیٹرز عبدال شکور خان، سیف اللہ ابڑو، خالدہ عتیب، حسنا بانو، نسیمہ احسان اور ہدایت اللہ خان نے شرکت کی۔
