پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کیلئے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے ایوان بالا میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کے معاملے پر باہمی طور پر قابل قبول حل تلاش کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ یہ کمیٹی منصوبے سے متعلق ثالثی کے تعطل کو ختم کرنے اور پاکستان کی مستقبل کی توانائی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹھوس پیش رفت کرے گی۔
منصوبے پر پیش رفت اور قانونی پہلو
منگل کے روز سینیٹر محمد طلحہ محمود کی جانب سے پیش کردہ توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وزیر پٹرولیم نے واضح کیا کہ کمیٹی منصوبے کے قانونی، مالی اور توانائی سے متعلق تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لے رہی ہے تاکہ قومی مفاد میں ایک مناسب اور پائیدار حل تلاش کیا جا سکے۔ ماضی میں بھی اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ خاقان فیدان کا ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں توانائی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔
ایران کے ساتھ دوستانہ سفارت کاری
علی پرویز ملک نے کہا کہ ایران پاکستان کا برادر ملک ہے اور دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت باہمی طور پر قابل قبول اور دوستانہ تصفیے کے لیے مسلسل رابطے میں ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ایران اپنی جانب اس منصوبے پر نمایاں عملی پیش رفت کر چکا ہے اور ساؤتھ پارس گیس فیلڈ سے پاکستان کی سرحد کے قریب واقع ایک بڑے ایرانی شہر تک گیس پہنچائی جا چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاملہ پیرس میں ثالثی کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، اس لیے منصوبے سے پیدا ہونے والی ممکنہ مالی ذمہ داری کو انتہائی محتاط انداز میں دیکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ حکومت مزید قانونی پیچیدگیوں اور طویل مقدمہ بازی سے بچنا چاہتی ہے اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ یاد رہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایرانی صدر اور اعلیٰ قیادت سے اہم ملاقاتیں بھی خطے میں توانائی اور سکیورٹی کے امور پر تعاون بڑھانے میں معاون ثابت ہوئی ہیں۔
بلوچستان کے گیس مسائل پر توجہ
بلوچستان میں گیس کی فراہمی اور دیگر مسائل کے حوالے سے وزیر پٹرولیم نے بتایا کہ وزیر اعظم نے انہیں صوبائی اسٹیک ہولڈرز اور فریقین سے رابطہ کرنے کی خصوصی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار کی سربراہی میں ایک اور اعلیٰ سطحی کمیٹی بلوچستان کے گیس سے متعلق مسائل کا جائزہ لے رہی ہے، جن میں تکنیکی خامیاں اور ادائیگیوں سے متعلق معاملات سرفہرست ہیں۔ اس سے قبل بھی وزیراعظم شہباز شریف سے چیئرمین رطاج گروپ شیخ نائف کی ملاقات میں توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع پر بات چیت کی گئی تھی۔
