پاکستان میں آرگینک زراعت کی ترقی کیلئے بااختیار کونسل کا قیام ناگزیر
لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ آرگینک زراعت اور مصنوعات پر ریسرچ کرنے والے ادارے کے سربراہ نجم مزاری نے کہا ہے کہ پاکستان میں آرگینک زراعت اور مصنوعات کی پیداوار، معیار، تحقیق اور برآمدات کو عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے بااختیار نیشنل آرگینک کونسل کا قیام ناگزیر ہے جس میں وفاق اور چاروں صوبوں کی موثر نمائندگی یقینی بنائی جائے جبکہ نجی شعبے کے اسٹیک ہولڈرز، آرگینک فارمرز، پروسیسرز، ایکسپورٹرز اور ریسرچ ماہرین کو بھی اس میں شامل کیا جائے۔
آرگینک مصنوعات اور عالمی منڈیوں میں مسابقت
اپنے بیان میں نجم مزاری نے کہا کہ سرکاری سیڈ محکموں کو بھی کونسل کا حصہ بنایا جائے تاکہ تصدیق شدہ بیج، مقامی اقسام اور آرگینک کاشت کیلئے موزوں بیج کی تیاری پر مربوط پالیسی تشکیل دی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ آرگینک شعبے میں تحقیق کو محض تجربہ گاہوں تک محدود رکھنے کی بجائے اسے پیداوار، ویلیو ایڈیشن اور برآمدی مارکیٹ سے براہ راست منسلک کرنا ہوگا۔ پاکستان میں آرگینک مصنوعات کی وسیع استعداد موجود ہے تاہم عالمی منڈیوں میں جگہ بنانے کیلئے سرٹیفکیشن، ٹریس ایبلٹی، اعلیٰ معیار اور یکساں پالیسی بنیادی تقاضے ہیں۔ اس تناظر میں صدر ایل سی سی آئی فہیم الرحمن سہگل کا ڈیجیٹل پرنٹنگ، سائن ایج ٹیکنالوجی پر زور دینا بھی زرعی شعبے کی جدید کاری کیلئے ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
مشترکہ ڈیٹا بیس اور پالیسی سازی کی ضرورت
نجم مزاری نے کہا کہ مجوزہ کونسل آرگینک مصنوعات کیلئے قومی معیار، تحقیقاتی ترجیحات اور برآمدی حکمت عملی مرتب کرے، پالیسی اور تحقیق کے خلاء کو ختم کرکے ایک مشترکہ ڈیٹا بیس بھی قائم کیا جائے۔ جس طرح پڑوسی ممالک سے خطے کے نئے سیکیورٹی و اقتصادی تعاون کی تشکیل بارے پیغامات موصول ہوئے ہیں، ایرانی سپیکر قالیباف کے بیان سے واضح ہے کہ علاقائی رابطے اہمیت کے حامل ہیں، اسی طرح آرگینک زراعت کے فروغ کیلئے بھی عالمی شراکت داری ضروری ہے۔
کسانوں کی آمدن اور ملکی برآمدات میں اضافہ
انہوں نے مزید کہا کہ آرگینک پیداوار بڑھنے سے کسانوں کی آمدن، زرعی ویلیو چین اور ملکی برآمدات میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت نجی شعبے کے تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کونسل کو محض مشاورتی ادارہ بنانے کے بجائے فیصلوں پر عملدرآمد کا اختیار دے۔ یاد رہے کہ ماضی میں بھی پاکستان نے 2010 کے بعد ہاکی ورلڈ کپ میں پہلا میچ جیت لیا، جاپان کو 3-4 سے شکست دے دی، جو اس بات کی علامت ہے کہ درست حکمت عملی اور پلیٹ فارم ملنے پر پاکستانی شعبے عالمی سطح پر کامیاب ہو سکتے ہیں۔ آرگینک زراعت کو مستقبل کی برآمدی معیشت کا اہم ستون بنانے کیلئے تحقیق، پالیسی اور مارکیٹ کو ایک پلیٹ فارم پر لانا ہوگا۔
