فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے مربوط کوششیں ناگزیر ہیں

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ فضائی آلودگی انسانی صحت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے جس پر قابو پانے کے لیے قومی سطح پر مشترکہ اور مربوط کوششیں ناگزیر ہیں، حکومت ملک میں الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے اقدامات کر رہی ہے جو فضائی آلودگی میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو پاکستان نیشنل کلین ایئر پالیسی کے عملدرآمدی منصوبے سے متعلق ایک روزہ اعلیٰ سطحی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ یہ تقریب وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی، پاکستان انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (پاک ای پی اے) اسلام آباد اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے باہمی تعاون سے منعقد ہوئی۔
صاف ہوا کا حصول اور پالیسی کا نفاذ
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ صاف ہوا ہر شہری کا بنیادی حق ہے جبکہ فضائی معیار کو بہتر بنانے کے لیے موثر نگرانی، پالیسیوں پر سختی سے عملدرآمد اور تمام متعلقہ شعبوں میں اصلاحات ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صاف ہوا کے حصول کے لیے صنعت، ٹرانسپورٹ اور توانائی کے شعبوں میں موثر اصلاحات کرنا ہوں گی۔ جیسا کہ حکومت اسلام آباد میں پانی کی قلت دور کرنے کیلئے دو نئے ڈیم جیسے منصوبوں پر کام کر رہی ہے، اسی طرح ماحولیاتی بہتری بھی ہماری اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ فضائی آلودگی میں کمی کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ اور صاف توانائی کا فروغ بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ماحولیاتی تحفظ اور اجتماعی ذمہ داری
ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ ماحولیاتی تحفظ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ معاشرے کے تمام طبقات کو اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، صاف ہوا اور بہتر ماحول کے لیے عوامی شعور اجاگر کرنا بھی ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آنے والی نسلوں کے لیے صاف، محفوظ اور صحت مند ماحول یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماحولیاتی پالیسی کا اصل مقصد صرف پالیسی بنانا نہیں بلکہ اس کے عملی فوائد عوام تک پہنچانا ہے، ماحول کے تحفظ کا بنیادی مقصد انسانی زندگی کا تحفظ ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ معاشی استحکام کے لیے بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں اور یہی اصول ماحولیاتی بہتری پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
فضائی آلودگی اور انسانی صحت کا براہ راست تعلق
وفاقی وزیر نے کہا کہ فضائی آلودگی انسانی صحت پر براہ راست اثر انداز ہو رہی ہے اور اس کے نتیجے میں دل اور پھیپھڑوں کی بیماریوں سمیت متعدد صحت کے مسائل جنم لے رہے ہیں۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے ایک ذاتی واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کچھ عرصہ قبل وہ ایک ایسے شخص کے ساتھ ہسپتال میں موجود تھے جو بے ہوش اور زندگی کے آخری مرحلے میں تھا۔ بعد ازاں جب انہوں نے ایک رپورٹ میں پڑھا کہ فضائی آلودگی انسانی زندگی کے کئی سال کم کر سکتی ہے تو انہیں وہی شخص یاد آیا جو اس وقت ہسپتال میں مشین کے ذریعے سانس لے رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم ماحول کو بہتر بناتے ہیں تو دراصل صرف ماحول کو نہیں بچا رہے ہوتے بلکہ انسانی زندگیوں کو محفوظ بنا رہے ہوتے ہیں، اور جس طرح ہنرمند نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح، شہبازشریف کا وژن ہے، اسی طرح صحت مند ماحول بھی ملکی ترقی کے لیے لازم ہے۔
