پاکستان اور ویلز کے درمیان ہاکی ورلڈ کپ مقابلہ برابر رہا
ایمسٹل وین (نمائندہ خصوصی)۔ نیدرلینڈز کے شہر ایمسٹل وین کے ویگنر ہاکی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے ایف آئی ایچ (FIH) ہاکی ورلڈ کپ کے پول ڈی کا ایک انتہائی سنسنی خیز اور کانٹے دار مقابلہ پاکستان اور ویلز کے درمیان 3-3 گول سے برابر رہا۔ دونوں ٹیموں نے میچ کے دوران شاندار مہارت کا مظاہرہ کیا اور آخری لمحات تک جیت کے لیے سرتوڑ کوششیں جاری رکھیں۔
میچ کا تفصیلی احوال
چار مرتبہ کی عالمی چیمپئن پاکستان نے کھیل کے پہلے کوارٹر میں جارحانہ آغاز کیا اور عبد الرحمن کے شاندار گول کی بدولت 1-0 کی برتری حاصل کر لی۔ پاکستان نے بال پوزیشن پر کنٹرول برقرار رکھا اور حریف ٹیم کے ڈی میں متعدد حملے کیے، تاہم ویلز کی ٹیم بھی دفاعی حکمت عملی کے ساتھ میدان میں ڈٹی رہی اور پاکستانی کھلاڑیوں کو مزید گول کرنے سے روکے رکھا۔ جس طرح پاکستان نے ورلڈ تائیکوانڈو پریزیڈنٹ کپ کا پومسے ایونٹ جیت لیا، اسی طرح ہاکی کے میدان میں بھی کھلاڑیوں نے جوش و خروش دکھایا۔
دوسرے کوارٹر میں میچ کا پانسہ پلٹ گیا اور ویلز نے شاندار واپسی کرتے ہوئے دو گول اسکور کر دیے۔ پہلے ہاف کے اختتام پر ویلز کو پاکستان کے خلاف 2-1 کی برتری حاصل ہو چکی تھی۔ اس دوران پاکستان کو کئی پنالٹی کارنر ملے مگر ویلز کا دفاعی حصار انتہائی مضبوط ثابت ہوا۔ تیسرا کوارٹر اعصاب شکن رہا اور دونوں ٹیموں کی جانب سے سخت مزاحمت کے باعث کوئی بھی گول نہ ہو سکا۔
آخری لمحات میں سنسنی خیز مقابلہ
میچ کے آخری 15 منٹ میں پاکستان کو 2-1 کے خسارے کا سامنا تھا، تاہم آخری کوارٹر میں قومی کھلاڑیوں نے شاندار کم بیک کیا۔ سفیان خان اور حنان شاہد نے صرف دو منٹ کے مختصر وقفے میں دو گول کر کے پاکستان کو 3-2 کی برتری دلا دی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب پاکستان کی فتح کے امکانات روشن ہو گئے تھے۔ تاہم ویلز نے بھی ہمت نہ ہاری اور میچ کے بالکل اختتامی لمحات میں ایک گول اسکور کر کے مقابلہ 3-3 سے برابر کر دیا۔ اس طرح دونوں ٹیموں کو ایک ایک پوائنٹ پر اکتفا کرنا پڑا۔ یاد رہے کہ معدنی وسائل کی ترقی کیلئے مربوط قومی پالیسی وقت کی ضرورت ہے، اسی طرح کھیلوں کے فروغ کے لیے بھی طویل المدتی منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔
ویلز کی جانب سے گیرتھ فرلانگ نے دو جبکہ رائس بریڈشا نے ایک گول اسکور کیا۔ پاکستان ہاکی ٹیم اب پول ڈی میں اپنا اگلا اور انتہائی اہم میچ روایتی حریف بھارت کے خلاف 19 اگست کو کھیلے گی۔ یہ مقابلہ ٹورنامنٹ کے اگلے مرحلے میں رسائی کے لیے فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔ جہاں حکومت حکومت کیش لیس معیشت کے قیام کیلئے پرعزم ہے، وہاں کھیلوں کے میدانوں میں بھی قومی ٹیموں سے بہتر کارکردگی کی توقع کی جاتی ہے۔
