مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 22°C
بدھ، 28 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.05 EUR/PKR 308.71 GBP/PKR 368.89 سونا/تولہ (عالمی) 421,068 PKR Bitcoin $80,645 USD/PKR 277.05 EUR/PKR 308.71 GBP/PKR 368.89 سونا/تولہ (عالمی) 421,068 PKR Bitcoin $80,645
بزنس

پاک چین بزنس ٹو بزنس تعاون برآمدات بڑھانے کا ذریعہ ہے، ہارون

📅 ✍️ ⏱ 4 منٹ
پاک چین بزنس ٹو بزنس تعاون برآمدات بڑھانے کا ذریعہ ہے، ہارون
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کہا ہے کہ پاک چین بزنس ٹو بزنس تعاون سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی منتقلی اور برآمدات کے فروغ کا ذریعہ بنے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاک چین بزنس ٹو بزنس (بی ٹو بی) تعاون اور دونوں ممالک کے کاروباری اداروں کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشتوں پر عملدرآمد کے حوالے سے پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں تمام متعلقہ وزارتوں، محکموں، سرکاری اداروں اور دیگر سٹیک ہولڈرز کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

پاک چین اقتصادی شراکت داری کے نئے مواقع

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہارون اختر خان نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کے دورہ چین اور پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنسز نے پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعاون کے لیے نئے مواقع اور راستے کھولے ہیں۔ ان بزنس ٹو بزنس روابط کے نتیجے میں مختلف شعبوں میں کروڑوں ڈالر مالیت کے متعدد مفاہمتی یادداشتوں اور مشترکہ منصوبوں (جوائنٹ وینچرز) پر اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ وزیراعظم کے مشیر نے اس امر پر زور دیا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاک چین معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کو ٹھوس اور قابل عمل منصوبوں میں تبدیل کرنے کے لیے واضح ہدایات جاری کی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صرف مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کافی نہیں، اصل کامیابی ان معاہدوں کو عملی شکل دینے اور سرمایہ کاری و مشترکہ منصوبوں کا آغاز یقینی بنانے میں ہے۔

منصوبوں پر عملدرآمد کی اہمیت

ہارون اختر خان نے ہدایت کی کہ وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق تمام مفاہمتی یادداشتوں پر مسلسل فالو اپ کیا جائے تاکہ ان پر بروقت پیش رفت اور موثر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت پاکستان پاک چین بزنس ٹو بزنس تعاون کو عملی سرمایہ کاری، مشترکہ پیداوار، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور برآمدات میں اضافے میں تبدیل کرنے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔ یہ اقدام پاکستان کو کیش لیس معیشت بنانے کیلئے عملی اقدامات کے تناظر میں معاشی استحکام کا اہم ستون ثابت ہوگا۔

صنعتی ترقی کے اہم شعبے

وزیراعظم کے مشیر نے لیتھیم آئن بیٹری، زراعت اور فارماسیوٹیکل کے شعبوں میں ہونے والے بزنس ٹو بزنس روابط کو غیر معمولی اور تاریخی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان شعبوں میں چینی کاروباری اداروں کی بھرپور شرکت پاکستان کے لیے ایک اہم صنعتی موقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ٹیکنالوجی کی منتقلی، مقامی مینوفیکچرنگ اور برآمدات کے فروغ کے لیے چین کے ساتھ بزنس ٹو بزنس روابط کو مزید مضبوط بنائے گا۔ جس طرح بیٹری سے چلنے والے دنیا کے بڑے ترین طیارے کی کامیاب پرواز ٹیکنالوجی میں جدت کی علامت ہے، اسی طرح پاکستان بھی جدید ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے پرعزم ہے۔ ہارون اختر خان نے کہا کہ چینی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کو پاکستان لانا اور اسے مقامی پیداوار اور برآمدات سے منسلک کرنا حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ اجلاس میں متعلقہ وزارتوں، محکموں اور سٹیک ہولڈرز کے درمیان موثر رابطہ کاری اور تعاون کے طریقہ کار کا بھی جائزہ لیا گیا تاکہ پاک چین بزنس ٹو بزنس روابط کے نتیجے میں ہونے والی پیش رفت کو ٹھوس سرمایہ کاری، پیداواری سہولیات، مشترکہ منصوبوں اور برآمدات پر مبنی صنعتی منصوبوں میں تبدیل کیا جا سکے۔ یاد رہے کہ اس طرح کے اقدامات کے ساتھ ساتھ کسٹمز ویلیوایشن میں عالمی مارکیٹ کی قیمتوں کو مدنظر رکھا جائے گا تاکہ کاروباری ماحول کو مزید سازگار بنایا جا سکے۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں