پاکستان کو کیش لیس معیشت بنانے کیلئے عملی اقدامات جاری ہیں
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وزیر مملکت برائے ریلوے و خزانہ بلال اظہر کیانی نے جے ایس بینک کی قیادت کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران پاکستان کو کیش لیس معیشت بنانے اور ملک بھر میں ڈیجیٹل مالیاتی شمولیت کو تیز کرنے کے لیے حکومتِ پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت پائیدار ترقی کے اہداف کا اجلاس بھی معاشی استحکام کے لیے کوشاں ہے۔
ڈیجیٹل مالیاتی شمولیت پر تبادلہ خیال
جے ایس بینک کے صدر اور سی ای او بصیر شمسی کی قیادت میں ملنے والے وفد میں نعمان اظہر (چیف آفیسر، ‘زندگی’ – جے ایس بینک) اور عاطف اسحاق (چیف بزنس آفیسر، ‘زندگی’ – جے ایس بینک) شامل تھے۔ وفد نے ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کی توسیع اور ڈیجیٹل طور پر بااختیار معیشت کے قومی وژن کی حمایت کی حکمت عملیوں پر تبادلہ خیال کے لیے وزارتِ خزانہ میں وزیر مملکت سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران وفد نے کیش لیس بزنس ماڈلز کو فروغ دینے اور مختلف شعبوں میں رسمی مالیاتی نظام کو اپنانے کے لیے حکومت کی جاری پالیسیوں اور اقدامات کی تعریف کی۔ یاد رہے کہ حکومت ماضی میں کسٹمز ویلیوایشن میں عالمی مارکیٹ کی قیمتوں کو مدنظر رکھا جائے جیسے اہم فیصلوں پر بھی کام کر چکی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی نگرانی میں پیش رفت
عوامی و نجی شراکت داری (پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ) کی اہم حکمت عملی پر زور دیتے ہوئے وزیر مملکت نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف ذاتی طور پر کیش لیس معیشت کے عمل کی نگرانی کر رہے ہیں اور گزشتہ ایک سال کے دوران اس سلسلے میں نمایاں پیش رفت حاصل کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ذریعے شفافیت کو یقینی بنانے، عوام کی سہولت میں اضافہ کرنے اور معیشت کی دستاویزات کے عمل کو تیز کرنے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔ اس ضمن میں قومی اسمبلی کا اجلاس 28 اگست تک جاری رکھنے کا فیصلہ بھی حکومتی ترجیحات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ دونوں فریقین نے ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کو آگے بڑھانے، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے اور ملک بھر میں کیش لیس حل کو وسیع پیمانے پر فروغ دینے کے لیے باہمی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
