مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
جمعرات، 8 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.08 EUR/PKR 310.30 GBP/PKR 366.25 سونا/تولہ 428,011 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $82,258 USD/PKR 277.08 EUR/PKR 310.30 GBP/PKR 366.25 سونا/تولہ 428,011 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $82,258
قومی

غزہ جنگ بندی منصوبہ، کوشنر کی حماس رہنما سے مصر میں اہم ملاقات، نیتن یاہو سے

📅 پیر، 17 اگست 2026 ✍️ Dost news ⏱ 5 منٹ
تصویر
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

غزہ جنگ بندی منصوبہ، کوشنر کی حماس رہنما سے مصر میں اہم ملاقات، نیتن یاہو سے۔ ھی ملاقات متوقع

قاہرہ، 17 اگست: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندے اور داماد جیرڈ کوشنر نے غزہ میں جنگ بندی کے تعطل کا شکار منصوبے کو دوبارہ فعال کرنے اور معاہدے کے اگلے مرحلے پر مذاکرات آگے بڑھانے کی کوششوں کے سلسلے میں مصر میں حماس کے سیاسی سربراہ خلیل الحیہ سے اہم ملاقات کی ہے۔

دی گارڈین نے علاقائی اور حماس کے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ملاقات دو گھنٹے سے زائد جاری رہی، جس میں کوشنر کے علاوہ دیگر امریکی نمائندوں اور مصر، قطر اور ترکیہ کے حکام نے بھی شرکت کی۔ تینوں ممالک غزہ جنگ بندی کے لیے ثالثی کی کوششوں میں شامل ہیں۔

رائٹرز کے مطابق کوشنر اور امریکی بورڈ آف پیس کے نمائندے نکولے ملادینوف نے بھی مصری، قطری اور ترک ثالثوں سے ملاقاتیں کیں تاکہ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے پر پیش رفت کی جا سکے۔ حماس کے نمائندوں نے بھی بعض ملاقاتوں میں شرکت کی۔

مذاکرات میں امریکا کی حمایت یافتہ 15 نکاتی حکمت عملی پر توجہ مرکوز کی گئی، جس کے تحت حماس کو مرحلہ وار غیر مسلح کرنے، اسرائیلی فوج کی غزہ سے واپسی اور علاقے کی تعمیر نو کے ساتھ شہری فلسطینی انتظامیہ کے قیام کی تجویز دی گئی ہے۔

دی گارڈین کے مطابق خلیل الحیہ کے ساتھ کوشنر کی ملاقات کا مقصد بالخصوص حماس سے منصوبے میں شامل غیر مسلح ہونے کی شقوں پر رضامندی حاصل کرنا تھا، جس کے بعد کوشنر کی اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ ملاقات متوقع ہے۔

حماس نے کہا ہے کہ وہ مجوزہ منصوبے کے لیے پرعزم ہے اور اس پر عملدرآمد کا طریقہ کار طے کرنے کے لیے مجوزہ 14 روزہ مذاکراتی مرحلے کے آغاز کا انتظار کر رہی ہے۔ تاہم حماس کے ایک عہدیدار کے مطابق تنظیم کا مطالبہ ہے کہ منصوبے پر عملدرآمد شروع ہونے سے قبل اسرائیل غزہ میں حملے روک کر اپنی افواج کو نام نہاد ’’یلو لائن‘‘ تک واپس لے جائے۔

دی گارڈین کے مطابق اسرائیلی افواج اس وقت غزہ کی پٹی کے تقریباً 60 فیصد حصے پر کنٹرول رکھتی ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق مذاکرات کا مقصد امریکا کی حمایت یافتہ 15 نکاتی منصوبے پر دوبارہ پیش رفت شروع کرنا ہے، جس میں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کو مرحلہ وار غیر مسلح کرنے کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فوج کے غزہ سے انخلا کی تجویز شامل ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے منصوبے کی موجودہ شکل مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ حماس کے مکمل طور پر غیر مسلح ہونے تک اسرائیل غزہ میں اپنی پوزیشنوں سے انخلا نہیں کرے گا۔ حماس کے غیر مسلح ہونے اور اسرائیلی افواج کے انخلا میں سے پہلے کیا ہوگا، اس اختلاف نے جنگ بندی معاہدے کے دیگر حصوں، بشمول غزہ کی تعمیر نو اور بین الاقوامی فورسز کی تعیناتی، پر بھی پیش رفت روک دی ہے۔

رائٹرز کے مطابق کوشنر کی یروشلم میں نیتن یاہو سے ملاقات متوقع ہے، جس میں سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر اور نکولے ملادینوف بھی شریک ہوں گے۔ ملاقات میں غزہ منصوبے پر عملدرآمد کے آئندہ مراحل پر بات چیت کی جائے گی۔

دی گارڈین کے مطابق سفارتی کوششوں کے دوران سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اردن، پاکستان، انڈونیشیا اور غزہ جنگ بندی کے ثالثوں نے اسرائیل کی جانب سے منصوبے کو مسترد کیے جانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں امن کی کوششوں میں رکاوٹ ڈالنے کی ذمہ داری اسرائیل پر عائد ہوتی ہے۔

رائٹرز کے مطابق یہ سفارتی کوششیں غزہ میں اسرائیلی حملوں کے جاری رہنے کے دوران ہو رہی ہیں، جس سے جنگ بندی کے عمل کو اگلے مرحلے میں منتقل کرنے کی مشکلات بھی نمایاں ہوتی ہیں۔

تازہ سفارتی رابطوں کا مقصد حماس کے غیر مسلح ہونے اور اسرائیلی افواج کے غزہ سے انخلا سمیت اہم اختلافی امور پر حماس اور اسرائیلی حکومت کے مؤقف میں موجود خلیج کو کم کرنا ہے۔

SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں