امریکی ڈیری انڈسٹری میں 13 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا منصوبہ، ڈیری فارمز کی تعداد کم مگر دودھ کی پیداوار میں 15 ارب پاؤنڈ اضافہ ہو گا

امریکی ڈیری انڈسٹری میں 13 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا منصوبہ، ڈیری فارمز کی تعداد کم مگر دودھ کی پیداوار میں 15 ارب پاؤنڈ اضافہ ہو گا
واشنگٹن، 15 اگست: امریکی ڈیری انڈسٹری نے 2030 تک دودھ کی پیداوار میں تقریباً 15 ارب پاؤنڈ اضافے کا منصوبہ بنایا ہے، جس کے لیے 19 ریاستوں میں ڈیری پروسیسنگ کی نئی اور توسیعی سہولتوں پر تقریباً 13 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ اس دوران ڈیری فارمز کی مجموعی تعداد میں کمی کا رجحان برقرار رہنے کا امکان ہے۔
ڈیری ہرڈ مینجمنٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی ڈیری پروسیسرز کی جانب سے کی جانے والی سرمایہ کاری کا مقصد ملکی اور عالمی سطح پر ڈیری مصنوعات کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے پروسیسنگ صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔
امریکی محکمہ زراعت کے اندازوں کے مطابق امریکا میں سالانہ دودھ کی پیداوار 2024 میں 225.9 ارب پاؤنڈ تھی جو 2030 تک بڑھ کر 243.7 ارب پاؤنڈ تک پہنچ سکتی ہے۔ پیداوار میں اضافے کی بڑی وجہ فی گائے دودھ کی پیداوار میں بہتری اور جدید فارمنگ ٹیکنالوجی کا استعمال ہو گا۔
امریکی محکمہ زراعت کے مطابق فی گائے اوسط سالانہ دودھ کی پیداوار 2024 کے 24,177 پاؤنڈ سے بڑھ کر 2030 میں 25,607 پاؤنڈ تک پہنچنے کی توقع ہے، جو تقریباً 6 فیصد اضافہ ہے۔ بہتر نسل کشی، غذائیت، مویشیوں کی نگہداشت اور ڈیٹا پر مبنی فارم مینجمنٹ اس اضافے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا میں ڈیری فارمز کی تعداد مسلسل کم ہو رہی ہے، تاہم بڑے اور زیادہ پیداواری فارمز مجموعی پیداوار میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ دودھ دینے والی گائیوں کی تعداد 2024 میں تقریباً 9.34 ملین تھی جو 2026 میں 9.57 ملین تک پہنچنے کے بعد 2030 تک معمولی کمی کے ساتھ تقریباً 9.52 ملین رہنے کا امکان ہے۔
ڈیری پروسیسنگ کے شعبے میں 13 ارب ڈالر کی مجوزہ سرمایہ کاری میں نیویارک 2.8 ارب ڈالر کے ساتھ سرفہرست ہے، جبکہ ٹیکساس میں 1.5 ارب ڈالر، وسکونسن میں 1.1 ارب ڈالر، آئیڈاہو میں 720 ملین ڈالر اور آئیوا میں 701 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔
مصنوعات کے لحاظ سے پنیر کی تیاری کے لیے تقریباً 3.2 ارب ڈالر، دودھ اور کریم کی پروسیسنگ کے لیے 2.9 ارب ڈالر، دہی اور دیگر کلچرڈ ڈیری مصنوعات کے لیے 2.8 ارب ڈالر جبکہ مکھن اور ملک پاؤڈرز کی تیاری کے لیے تقریباً 1.6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا میں ڈیری مصنوعات کی طلب میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ 2023 میں فی کس ڈیری مصنوعات کا استعمال 661 پاؤنڈ کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گیا، جبکہ گزشتہ پانچ دہائیوں کے دوران پنیر کی فی کس کھپت تقریباً دوگنا ہو چکی ہے۔ زیادہ پروٹین والی غذاؤں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے باعث دہی، کاٹیج چیز، پروٹین ڈرنکس اور وہے پروٹین پاؤڈر جیسی مصنوعات کی مانگ بھی بڑھ رہی ہے۔
امریکی ڈیری انڈسٹری کی ترقی میں برآمدی منڈیوں کو بھی اہم حیثیت حاصل ہے۔ لاطینی امریکا اور جنوب مشرقی ایشیا کو ترقی کے اہم مواقع رکھنے والی منڈیاں قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، جاپان اور جنوبی کوریا سمیت دیگر ممالک میں امریکی ڈیری مصنوعات کی طلب میں اضافے کے امکانات ہیں۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو برسوں میں امریکا میں تیار ہونے والے نئے پنیر کا 60 فیصد سے زیادہ حصہ عالمی منڈیوں میں برآمد کیا گیا۔ امریکی محکمہ زراعت کے اندازے کے مطابق سکم سالڈز کی بنیاد پر امریکی دودھ کی پیداوار میں برآمدات کا حصہ 2027 کے 21.5 فیصد سے بڑھ کر 2035 تک 25.2 فیصد ہو سکتا ہے۔
تاہم امریکی ڈیری انڈسٹری کو افرادی قوت کی کمی، موسمیاتی تبدیلی، خشک سالی، شدید گرمی، خوراک اور توانائی کی لاگت، تجارتی پالیسیوں اور ماحولیاتی ضوابط جیسے چیلنجز کا سامنا بھی ہے۔ عالمی منڈی میں یورپی یونین، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا اور جنوبی امریکا کے ڈیری پروڈیوسرز امریکی صنعت کے اہم حریف ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اگر دودھ کی پیداوار میں اضافے کے ساتھ پروسیسنگ صلاحیت، بنیادی ڈھانچے، افرادی قوت اور ملکی و عالمی طلب کے درمیان توازن برقرار رہا تو امریکا 2030 تک اضافی 15 ارب پاؤنڈ دودھ کو مؤثر طور پر استعمال اور مارکیٹ کرنے کی پوزیشن میں ہو گا۔
