مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
جمعرات، 8 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.08 EUR/PKR 310.30 GBP/PKR 366.25 سونا/تولہ 428,739 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $81,447 USD/PKR 277.08 EUR/PKR 310.30 GBP/PKR 366.25 سونا/تولہ 428,739 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $81,447
قومی

سعودی عرب کی کابینہ کی تشکیل نو، موجودہ وزرا برقرار، دو اداروں کی قیادت تبدیل

📅 جمعہ، 14 اگست 2026 ✍️ Dost news ⏱ 6 منٹ
سعودی عرب کی کابینہ کی تشکیل نو، موجودہ وزرا برقرار، دو اداروں کی قیادت تبدیل
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

سعودی عرب کی کابینہ کی تشکیل نو، موجودہ وزرا برقرار، دو اداروں کی قیادت تبدیل

ریاض: سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی سربراہی میں کابینہ کی تشکیل نو کی منظوری دے دی ہے، تاہم کابینہ کے موجودہ ارکان کو برقرار رکھا گیا ہے۔ شاہی فرامین کے تحت دو اہم اقتصادی اداروں، لوکل کنٹینٹ اینڈ گورنمنٹ پروکیورمنٹ اتھارٹی اور کیپیٹل مارکیٹ اتھارٹی، کی سربراہی میں اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے تین الگ شاہی فرامین جاری کیے۔ پہلے فرمان کے ذریعے وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی سربراہی میں کابینہ کو موجودہ ارکان کے ساتھ ازسرنو تشکیل دیا گیا۔ یہ اقدام سعودی قانونِ مجلس وزرا کے تحت کابینہ کی مقررہ مدت مکمل ہونے کے بعد کیا گیا ہے، جس کے مطابق کابینہ کی مدت زیادہ سے زیادہ چار سال ہوتی ہے اور اس کے بعد شاہی فرمان کے ذریعے اس کی تشکیل نو کی جاتی ہے۔

کابینہ کی موجودہ تشکیل برقرار رکھنے کا مطلب ہے کہ اہم وزارتوں میں فوری طور پر وزارتی سطح پر کوئی بڑی تبدیلی نہیں کی گئی۔ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان وزیراعظم کی حیثیت سے کابینہ کی سربراہی جاری رکھیں گے۔ وہ 2022 میں وزیراعظم مقرر ہوئے تھے اور گزشتہ برسوں کے دوران سعودی عرب کی سیاسی، اقتصادی اور خارجہ پالیسی کے اہم فیصلوں میں مرکزی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

دوسرے شاہی فرمان کے تحت وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان کو لوکل کنٹینٹ اینڈ گورنمنٹ پروکیورمنٹ اتھارٹی کے بورڈ کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔ اس تقرری کے ساتھ بندر بن ابراہیم الخریف کو اتھارٹی کے بورڈ کی سربراہی سے سبکدوش کر دیا گیا ہے۔

لوکل کنٹینٹ اینڈ گورنمنٹ پروکیورمنٹ اتھارٹی سعودی عرب کے اقتصادی مقامی سازی کے ایجنڈے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ادارے کی ذمہ داریوں میں مقامی مواد کے فروغ، سرکاری خریداری میں مقامی مصنوعات اور خدمات کی ترجیح اور حکومتی اخراجات کے ذریعے ملکی معیشت میں زیادہ سے زیادہ قدر پیدا کرنے کی کوششیں شامل ہیں۔ اس لیے ادارے کی سربراہی میں تبدیلی کو سعودی عرب کے مقامی پیداوار اور اقتصادی مقامی سازی کے پروگراموں کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

تیسرے شاہی فرمان کے تحت مازن بن ترکی السودیری کو کیپیٹل مارکیٹ اتھارٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے اور انہیں وزیر کے مساوی رتبہ دیا گیا ہے۔ انہوں نے محمد بن عبداللہ القویز کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اتھارٹی کی سربراہی سے سبکدوش کر دیا گیا ہے۔

کیپیٹل مارکیٹ اتھارٹی سعودی عرب کے مالیاتی نظام میں بنیادی ریگولیٹری ادارہ ہے جو ملک کی کیپیٹل مارکیٹ کی نگرانی، ضوابط کی تشکیل و نفاذ اور مارکیٹ کی ترقی سے متعلق ذمہ داریاں انجام دیتا ہے۔ اتھارٹی سعودی اسٹاک مارکیٹ سمیت کیپیٹل مارکیٹ کے مختلف شعبوں کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، اس لیے اس کی قیادت میں تبدیلی سعودی مالیاتی اور سرمایہ کاری کے شعبے کے لیے خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔

مازن السودیری کی تقرری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب اپنی معیشت کو تیل پر انحصار سے نکال کر سرمایہ کاری، مالیاتی خدمات، ٹیکنالوجی، سیاحت، لاجسٹکس اور دیگر غیر تیل شعبوں کی طرف منتقل کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کر رہا ہے۔ ان تبدیلیوں کا وسیع تر پس منظر سعودی وژن 2030 بھی ہے، جس کے تحت سعودی معیشت میں تنوع پیدا کرنے اور نجی و غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق کابینہ کے موجودہ ارکان کو برقرار رکھنے اور اقتصادی نوعیت کے دو اہم اداروں میں قیادت تبدیل کرنے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ سعودی قیادت نے حکومتی پالیسیوں میں تسلسل برقرار رکھتے ہوئے مخصوص اقتصادی اداروں میں انتظامی سطح پر نئی ذمہ داریاں تفویض کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

نئی تشکیل کے بعد بھی شہزادہ محمد بن سلمان سعودی عرب کے سیاسی اور اقتصادی ایجنڈے کی قیادت جاری رکھیں گے۔ وہ سعودی وژن 2030 کے مرکزی محرک ہیں، جس کے تحت نیوم، بحیرہ احمر کے سیاحتی منصوبوں، ٹیکنالوجی، قابل تجدید توانائی، لاجسٹکس اور پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کے ذریعے سرمایہ کاری میں توسیع سمیت متعدد بڑے منصوبے جاری ہیں۔

تینوں شاہی فرامین کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو کابینہ کی سطح پر تسلسل برقرار رکھا گیا ہے، جبکہ مقامی مواد اور سرکاری خریداری کے شعبے کے ساتھ ساتھ مالیاتی منڈی کے ریگولیٹری ڈھانچے میں نئی قیادت متعارف کرائی گئی ہے۔ سعودی عرب میں اقتصادی اصلاحات اور وژن 2030 کے اہداف کے پیش نظر ان دونوں اداروں کی نئی قیادت آئندہ مرحلے میں مقامی صنعت، حکومتی خریداری، سرمایہ کاری اور مالیاتی منڈی کی ترقی سے متعلق پالیسیوں میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں