امریکہ کا ایران پر آئندہ ہفتے مزید سخت اقتصادی پابندیاں لگانے کا اعلان

امریکہ کا ایران پر آئندہ ہفتے مزید سخت اقتصادی پابندیاں لگانے کا اعلان
واشنگٹن، 14 اگست: امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ امریکا ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کے لیے آئندہ ہفتے مزید غیر معمولی اقتصادی اقدامات کا اعلان کرے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ مجوزہ اقدامات کی ماضی میں کسی ملک کے خلاف کوئی مثال نہیں ملتی۔
رائٹرز کے مطابق اسکاٹ بیسنٹ نے 13 اگست کو امریکی میڈیا ادارے نیوز میکس کے پروگرام ’’روب شمٹ ٹونائٹ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ ہفتے مزید اعلانات متوقع ہیں اور امریکا ایران کے خلاف ایسی معاشی تنہائی کے اقدامات کرے گا جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے۔
امریکی وزیر خزانہ نے کہا کہ نئی حکمت عملی میں ایران کی مکمل معاشی تنہائی کے ساتھ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی بھی شامل ہوگی، جس کے ذریعے ایرانی بندرگاہوں سے اشیا اور تجارت کی آمد و رفت کو محدود رکھنے کا مقصد ہے۔
بیسنٹ کے مطابق واشنگٹن ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کے لیے مختلف مالیاتی اور تجارتی ذرائع استعمال کرے گا۔ تاہم انہوں نے آئندہ ہفتے اعلان کیے جانے والے اقدامات کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت اور عالمی توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی کہا ہے کہ امریکی بحریہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کو غیر معینہ مدت تک برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ان کے مطابق امریکی بحری جہازوں کو گردش کے ذریعے خطے میں موجود رکھا جاسکتا ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم بحری راستہ ہے۔ اس راستے میں طویل رکاوٹ یا مکمل بندش عالمی تیل کی سپلائی، شپنگ اور توانائی کی قیمتوں پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اقتصادی دباؤ کا مقصد ایران پر اس کی جوہری سرگرمیوں اور دیگر پالیسی معاملات کے حوالے سے دباؤ بڑھانا ہے، جبکہ ایران طویل عرصے سے امریکی پابندیوں کو مسترد کرتا آیا ہے۔
