عراق نے امریکی اتحادی افواج کو 30 ستمبر تک انخلا کی حتمی ڈیڈ لائن دے دی

عراق نے امریکی اتحادی افواج کو 30 ستمبر تک انخلا کی حتمی ڈیڈ لائن دے دی
بغداد، 14 اگست: عراق نے امریکی قیادت میں داعش کے خلاف قائم عالمی اتحاد کے فوجی مشن کے اختتام اور اتحادی افواج کے ملک سے مکمل انخلا کے لیے 30 ستمبر کی تاریخ مقرر کردی ہے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل بریڈ کوپر سے بغداد میں ملاقات کے بعد کہا کہ 30 ستمبر عراق میں عالمی اتحاد کے فوجی مشن کے خاتمے اور اتحادی افواج کے انخلا کی حتمی تاریخ ہوگی۔
عراقی وزیراعظم کے دفتر کے مطابق 30 ستمبر کے بعد یکم اکتوبر سے عراق ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگا اور ملک میں غیر ملکی فوجی موجودگی کا خاتمہ ہوجائے گا۔ عراق اور امریکا کے درمیان اس تاریخ پر اتفاق کیا گیا ہے، جس پر وزیراعظم علی الزیدی کے جولائی میں واشنگٹن کے دورے کے دوران بھی بات چیت ہوئی تھی۔
ملاقات کے دوران اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ اتحادی افواج کے انخلا کے بعد عراق اور امریکا کے تعلقات خودمختاری کے احترام اور باہمی مفادات کی بنیاد پر اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینے کی سمت آگے بڑھیں گے۔
ایک امریکی عہدیدار نے بھی تصدیق کی ہے کہ امریکا 30 ستمبر تک عراق سے اپنی فوجی واپسی مکمل کرنے کی توقع رکھتا ہے۔ تاہم عہدیدار نے عراق میں موجود امریکی فوجیوں کی تعداد یا انخلا کے بعد ان کی ممکنہ تعیناتی کے مقامات کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا، عراق اور اتحادی ممالک نے داعش کے خلاف کارروائی میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ آئندہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں عراقی سکیورٹی فورسز، پیشمرگہ اور عراقی کردستان ریجن کی دیگر سکیورٹی فورسز مرکزی کردار ادا کریں گی۔
امریکی فوج گزشتہ سال عراق کے بیشتر علاقوں میں قائم اپنے اڈوں سے انخلا کرچکی تھی، تاہم نیم خودمختار شمالی کردستان ریجن میں امریکی فوجی موجودگی برقرار رہی۔ اتحادی افواج کا مکمل انخلا عراق میں امریکی فوجی موجودگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔
