زرعی تحقاتی کونسل میں اصلاحات، ورکنگ گروپ کا این اے آر سی کا دورہ

زرعی تحقاتی کونسل میں اصلاحات، ورکنگ گروپ کا این اے آر سی کا دورہ
اسلام آباد: پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (PARC) میں اصلاحات اور تبدیلی کا عمل وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی قیادت میں تیز کردیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کی تبدیلی کے لیے قائم اعلیٰ سطحی ورکنگ گروپ نے نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر (NARC) کا جامع دورہ کیا اور تحقیقی سہولیات، جدید ٹیکنالوجیز اور جاری پروگرامز کا جائزہ لیا۔
پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کی تبدیلی کے لیے قائم ورکنگ گروپ میں وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے زراعت و غذائی تحفظ احمد عمیر، پروفیسر ایمیریٹس اور سابق وائس چانسلر لمز لاہور ڈاکٹر سید ظہور حسن اور سابق سیکریٹری زراعت حکومت پنجاب رانا نسیم احمد شامل ہیں۔
ورکنگ گروپ نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار جینومکس اینڈ ایڈوانسڈ بائیوٹیکنالوجی کی لیبارٹریز، آئی او ٹی بیسڈ اسمارٹ گرین ہاؤس، کوریا ایروپونکس کمپلیکس، فشریز اینڈ لائیوسٹاک ریسرچ اسٹیشن، نیشنل جین بینک، ہارٹیکلچر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، ایگریکلچرل انجینئرنگ انسٹی ٹیوٹ، اسپیڈ بریڈنگ سہولت، لینڈ ریسورسز ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، کراپ ڈیزیز ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، ایکوٹوکسی کولوجی لیبارٹری، فوڈ سائنس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اور اینیمل ہیلتھ پروگرام کا دورہ کیا۔
وفد کو زرعی بائیوٹیکنالوجی، جینومکس، اسمارٹ ایگریکلچر، ایروپونکس، جینیاتی وسائل کے تحفظ، باغبانی، زرعی میکانائزیشن، اسپیڈ بریڈنگ، فوڈ سیفٹی، کیڑے مار ادویات کے باقیات کی جانچ، فوڈ سائنس، لائیوسٹاک، فشریز اور جانوروں کی بیماریوں کی تشخیص کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کی تبدیلی کا مقصد زرعی تحقیق کو جدید، کسانوں کی ضروریات سے ہم آہنگ اور نتائج پر مبنی بنانا ہے، جبکہ قومی غذائی تحفظ کو تحقیق کے بنیادی اہداف میں شامل کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ تحقیق کو لیبارٹریوں سے کھیتوں تک منتقل کرنا ہوگا اور سائنسی جدت کو کسانوں کے لیے عملی حل، زرعی پیداوار میں اضافے اور زرعی آمدن میں بہتری کا ذریعہ بنانا ہوگا۔
وفاقی وزیر نے جدید زرعی ٹیکنالوجی، موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت رکھنے والی زراعت، بہتر فصلوں کی اقسام، زرعی میکانائزیشن، بائیوٹیکنالوجی اور ویلیو ایڈیشن پر مزید توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ پاکستان کی زرعی مسابقتی صلاحیت میں اضافہ کیا جاسکے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کی تحقیقی ترجیحات کو ابھرتے ہوئے چیلنجز، مارکیٹ کی ضروریات اور ملکی غذائی تحفظ کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے، جبکہ تحقیقی اداروں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے درمیان رابطہ کاری کو بھی مزید مؤثر بنایا جائے۔
رانا تنویر حسین نے کہا کہ حکومت پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کو زرعی تحقیق، جدت، ٹیکنالوجی اور تحقیق کے عملی اطلاق کا ایک مؤثر قومی مرکز بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
ورکنگ گروپ نے نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر کے مختلف اداروں کی ادارہ جاتی استعداد، تحقیقی سرگرمیوں اور تحقیقی نتائج کا جائزہ لیا۔ ورکنگ گروپ جاری تبدیلی کے عمل کے تحت گورننس، تحقیقی ترجیحات، جدت، تحقیق کی کمرشلائزیشن اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بہتر بنانے کے لیے سفارشات مرتب کرے گا۔
