مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
جمعہ، 9 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.08 EUR/PKR 310.30 GBP/PKR 366.25 سونا/تولہ 429,705 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $81,805 USD/PKR 277.08 EUR/PKR 310.30 GBP/PKR 366.25 سونا/تولہ 429,705 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $81,805
قومی

کویت کا آبنائے ہرمز سے تیل کی برآمد کے لیے متبادل راستوں پر غور

📅 جمعرات، 13 اگست 2026 ✍️ Dost news ⏱ 3 منٹ
کویت کا آبنائے ہرمز سے تیل کی برآمد کے لیے متبادل راستوں پر غور
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

کویت کا آبنائے ہرمز سے تیل کی برآمد کے لیے متبادل راستوں پر غور

کویت سٹی، 12 اگست: آبنائے ہرمز سے متعلق بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی خطرات کے پیش نظر کویت نے تیل کی برآمد کے لیے متبادل راستوں اور پائپ لائن نیٹ ورک کے فروغ پر توجہ مرکوز کرنا شروع کردی ہے۔

عرب ٹائمز کویت کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز پر حد سے زیادہ انحصار خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک کی اقتصادی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے، اس لیے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور عمان کے ذریعے تیل کی ترسیل کے متبادل راستوں کو مزید فعال کرنے کی ضرورت ہے۔

اقتصادی ماہر اور سابق مشیر وزیر خزانہ محمد رمضان نے کہا کہ خلیجی ممالک کے پاس سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور عمان کے زمینی و ساحلی علاقوں سے منسلک متعدد متبادل راستے موجود ہیں۔ ان راستوں کے استعمال سے عالمی توانائی کی تجارت میں آبنائے ہرمز پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ مقصد آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر نظرانداز کرنا نہیں بلکہ توانائی کی ترسیل کے لیے اس پر انحصار کم کرنا اور کسی ایک فریق کی جانب سے اس اہم گزرگاہ پر مکمل کنٹرول کے امکانات کو محدود کرنا ہے۔

اقتصادی و قانونی ماہر سالم الکندری نے کویت کو مشورہ دیا کہ وہ تیل کی برآمد کے لیے روایتی طور پر ایشیائی منڈیوں پر انحصار کم کرتے ہوئے یورپی اور افریقی منڈیوں تک رسائی بڑھانے پر توجہ دے۔

انہوں نے سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو کویتی تیل کی یورپ اور افریقہ تک ترسیل کے لیے اہم متبادل قرار دیا۔ ان کے مطابق بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع تک پہنچنے والی یہ پائپ لائن خلیجی تیل کی برآمد کے لیے ایک محفوظ اور قابل اعتماد تزویراتی راستہ فراہم کر سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق متبادل راستوں کے فروغ سے خلیجی ممالک اپنی توانائی کی برآمدات کو آبنائے ہرمز سے وابستہ ممکنہ جغرافیائی سیاسی خطرات سے کسی حد تک محفوظ بنا سکتے ہیں۔

آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملانے والی دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر بڑی مقدار میں تیل اور دیگر توانائی کی مصنوعات منتقل ہوتی ہیں۔ موجودہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں متبادل برآمدی راستوں کی تلاش خلیجی ممالک کی توانائی اور اقتصادی سلامتی کی حکمت عملی میں اہمیت اختیار کر رہی ہے۔

SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں