پشاور یونیورسٹی میں کم داخلوں کے باعث 20 شعبوں کے انضمام کی منظوری

پشاور یونیورسٹی میں کم داخلوں کے باعث 20 شعبوں کے انضمام کی منظوری
پشاور: پشاور یونیورسٹی کے سنڈیکیٹ نے طلبہ کی تعداد میں کمی اور یونیورسٹی کو درپیش مالی مشکلات کے پیش نظر 20 کم داخلوں والے شعبوں کو مختلف تعلیمی اکائیوں میں ضم کرنے کی منظوری دے دی ہے، تاہم انضمام کے فیصلے کی حتمی منظوری یونیورسٹی کی سینیٹ دے گی۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وائس چانسلر پشاور یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر جوہر علی کی زیر صدارت سنڈیکیٹ کے اجلاس میں کم تعداد میں طلبہ رکھنے والے شعبوں کی تنظیم نو کی منظوری دی گئی۔ یونیورسٹی کے ایک استاد کے مطابق سرکاری جامعات میں بعض تعلیمی پروگراموں میں طلبہ کی دلچسپی کم ہونے کی ایک بڑی وجہ ان پروگراموں کا مقامی اور عالمی روزگار کی منڈی کی ضروریات سے ہم آہنگ نہ ہونا ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق شعبہ نباتاتی حیاتیاتی تنوع کو شعبہ نباتیات میں ضم کرکے نباتیات و نباتاتی حیاتیاتی تنوع کا نیا شعبہ قائم کیا جائے گا۔ شہری و علاقائی منصوبہ بندی کو جغرافیہ و نقشہ سازی کے شعبے میں ضم کرکے جغرافیہ، نقشہ سازی و شہری منصوبہ بندی کا شعبہ تشکیل دیا جائے گا، جبکہ فارسی کے شعبے کو اردو کے شعبے میں ضم کرکے اردو و فارسی کا مشترکہ شعبہ بنایا جائے گا۔
اسی طرح عمرانیات، صنفی مطالعات اور سماجی بشریات کے شعبوں کو ایک مشترکہ شعبے میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پشتو اکیڈمی کو شعبہ پشتو میں ضم کرکے پشتو شعبہ و اکادمی برائے تحقیق و ادب قائم کی جائے گی۔
علاقائی مطالعات، بین الاقوامی تعلقات، تاریخ اور فلسفہ کے شعبوں کو یکجا کرکے بین الاقوامی تعلقات، تاریخ و فلسفہ کا مشترکہ شعبہ تشکیل دیا جائے گا، جبکہ شعبہ سیرت کو اسلامیات کے شعبے میں ضم کرکے اسلامی و سیرت مطالعات کا شعبہ قائم کیا جائے گا۔
فیصلے کے مطابق کالج آف ہوم اکنامکس میں جاری انسانی غذائیت و غذائی منصوبہ بندی اور عوامی صحت کے پروگرام صحت سائنسز کے ادارے کو منتقل کیے جائیں گے، جبکہ فیشن ڈیزائن، اندرونی ڈیزائن اور فنون و ڈیزائن کے پروگراموں کو بھی ایک مشترکہ تعلیمی اکائی کے تحت لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
یونیورسٹی ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے سینیٹ کے گزشتہ اجلاس میں کم داخلوں والے شعبوں کو ضم کرنے کی ہدایت کی تھی تاکہ مالی مشکلات سے دوچار یونیورسٹی کے اخراجات کم کیے جاسکیں اور دستیاب وسائل کا بہتر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔
اس مقصد کے لیے قائم کی گئی کمیٹی نے مختلف شعبوں میں طلبہ کے داخلوں، اساتذہ اور طلبہ کے تناسب، شعبہ وار تنخواہوں کے اخراجات اور فی طالب علم تنخواہ کے اخراجات کا جائزہ لیا۔ کمیٹی نے داخلوں کے رجحانات، تعلیمی مطابقت اور پروگراموں کی افادیت کو مدنظر رکھتے ہوئے شعبوں کی مرحلہ وار تنظیم نو اور انضمام کی سفارش کی۔
پشاور یونیورسٹی کے ترجمان نعمان جان نے بتایا کہ شعبوں کے انضمام کی تجویز یونیورسٹی کی اکیڈمک کونسل نے پیش کی تھی جس کی سنڈیکیٹ نے توثیق کردی ہے۔ ان کے مطابق ضم کیے جانے والے شعبے ایک ہی فیکلٹی سے متعلق ہیں، جبکہ یونیورسٹی میں 70 سے زائد بی ایس پروگرام بدستور جاری رہیں گے۔
ترجمان کے مطابق انضمام کے بعد تدریسی عملے کو ان کے تدریسی بوجھ، شعبوں کی تنظیم نو اور متعلقہ پروگراموں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف شعبوں میں منتقل یا ایڈجسٹ کیا جائے گا۔
یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق شعبوں کے انضمام کا بنیادی مقصد تعلیمی وسائل کا بہتر استعمال، مختلف شعبوں کے درمیان تعاون میں اضافہ، کم داخلوں والے پروگراموں کی مؤثر تنظیم نو اور یونیورسٹی کے مالی بوجھ میں کمی لانا ہے۔
انتظامیہ کے مطابق یہ اقدام یونیورسٹی کے تعلیمی ڈھانچے کو موجودہ ضروریات سے ہم آہنگ کرنے اور محدود وسائل کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی کوشش کا حصہ ہے، تاہم شعبوں کے انضمام کی حتمی منظوری پشاور یونیورسٹی کی سینیٹ دے گی۔
