مشعل پاکستان کی رپورٹ 2026، حکومتی اصلاحات اور ڈیجیٹل ترقی نمایاں

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ ورلڈ اکنامک فورم کے پارٹنر ادارے مشعل پاکستان نے پاکستان میں گورننس، شفافیت، انتظامی اصلاحات اور ڈیجیٹل ترقی سے متعلق ‘پاکستان ریفارمز اینڈ ٹرانسپیرنسی رپورٹ 2026’ جاری کردی۔ رپورٹ میں وفاقی وزارتوں، محکموں اور مختلف سرکاری اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے ملکی انتظامی نظام میں ہونے والی اہم تبدیلیوں اور اصلاحات کی تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔
اصلاحاتی ایجنڈا اور انتظامی کارکردگی
رپورٹ کے مطابق ملک کے 135 وفاقی وزارتوں اور اداروں میں 600 سے زائد انتظامی و حکومتی اصلاحات کی دستاویز بندی کی گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں پیش رفت ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مجموعی اصلاحات کا تقریباً 40 فیصد حصہ توانائی کے شعبے سے متعلق ہے، جبکہ ڈیجیٹل گورننس، قانون و انصاف اور انفارمیشن ٹیکنالوجی بھی اصلاحاتی ایجنڈے کے اہم شعبے رہے ہیں۔ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کا ڈیجیٹل ماڈل اعلیٰ تعلیم کے لیے قابل تقلید مثال ہے، چیئرمین ایچ ای سی کی طرح ادارہ جاتی بہتری کے لیے اس طرح کی رپورٹس کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔
ڈیجیٹل گورننس اور شفافیت
مشعل پاکستان کے مطابق سرکاری خدمات میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے بڑھتے ہوئے استعمال سے شفافیت میں بہتری، ریکارڈ تک رسائی میں آسانی اور صوابدیدی اختیارات میں کمی کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں ڈیجیٹل نظام کو ادارہ جاتی کارکردگی بہتر بنانے اور شہریوں کو سہولیات کی فراہمی کا اہم ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ اقتصادی اصلاحات کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ توانائی اور مالیاتی شعبے میں کیے گئے اقدامات، جن میں آئی پی پیز کے معاہدوں پر نظرثانی بھی شامل ہے، کے نتیجے میں قومی خزانے کو اربوں روپے کی متوقع بچت حاصل ہوسکتی ہے۔
عوامی رجحانات اور اقتصادی مواقع
رپورٹ میں شہری آزادیوں اور معاشی مواقع سے متعلق عوامی رجحانات کو بھی اجاگر کیا گیا۔ اعداد و شمار کے مطابق 77 فیصد شہریوں کا خیال ہے کہ انہیں اپنے پیشے کے انتخاب میں آزادی حاصل ہے، جبکہ 75 فیصد افراد نے کاروباری سرگرمیوں اور خواتین کو ترقی کے مواقع فراہم کرنے کے عمل کو مثبت قرار دیا۔ وزیر خزانہ کی پاکستان بزنس کونسل کی قیادت سے ملاقات، سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال کے تناظر میں یہ اعداد و شمار ملکی معاشی استحکام کے لیے اہم ہیں۔ اسی طرح ریکوڈک سمیت توانائی اور معدنی وسائل سے متعلق منصوبوں کے ذریعے اربوں ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہونے کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔
ڈیجیٹل رسائی اور چیلنجز
ڈیجیٹل شعبے میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی رسائی کا ذکر کرتے ہوئے رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملک میں موبائل کنیکشنز کی تعداد 19 کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ براڈبینڈ صارفین کی تعداد بھی کروڑوں میں ہے۔ چین میں 6 ماہ کے دوران ہیومنائیڈ روبوٹس کی 1 لاکھ 16 ہزار نئی کمپنیاں قائم ہونے جیسے رجحانات کے برعکس، پاکستان میں غلط معلومات، سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثرات اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذمہ دارانہ استعمال کو اہم چیلنجز قرار دیا گیا ہے۔
تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے حکومتی عہدیداروں اور ماہرین نے کہا کہ حقائق اور اعداد و شمار پر مبنی رپورٹس پالیسی سازی، ادارہ جاتی مضبوطی، شفافیت اور عوامی اعتماد کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ مشعل پاکستان کے مطابق رپورٹ کا مقصد پالیسی سازوں، محققین اور بین الاقوامی شراکت داروں کو پاکستان میں جاری اصلاحات اور بدلتے ہوئے انتظامی منظرنامے سے آگاہ کرنا ہے۔
