مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
ہفتہ، 3 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,659 USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,659
عالمی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ڈیموکریٹک امیدواروں کو جہادی قرار دینے کا متنازع بیان

📅 منگل، 11 اگست 2026 ✍️ Dost news ⏱ 4 منٹ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ڈیموکریٹک امیدواروں کو جہادی قرار دینے کا متنازع بیان
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

واشنگٹن (نمائندہ خصوصی)۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط المدتی انتخابات (Midterm Elections) کے سلسلے میں منعقدہ ایک حالیہ عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی و پارلیمانی امیدواروں پر شدومد سے تنقید کی ہے اور انہیں ”جہادی“ (Jihadists) قرار دیا ہے۔ امریکی صدر کے اس متنازع بیان کے بعد ملک بھر میں شدید سیاسی ہیجان اور ہنگامہ آرائی پیدا ہو گئی ہے۔ مختلف سیاسی تجزیہ کاروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ٹرمپ کے اس بیان کو اسلامو فوبیا اور نسل پرستی پر مبنی سیاست کا تسلسل قرار دیا ہے۔

انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ کی جانب سے مخالف جماعت کے رہنماؤں کے لیے ایسے سخت الفاظ کا استعمال نیا نہیں ہے، تاہم ڈیموکریٹک امیدواروں کو براہِ راست اسلام پسند شدت پسندوں سے تشبیہ دینے پر ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی رہنماؤں اور مسلم برادری نے شدید ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ یہ تنازع ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ریپبلکن پارٹی کے متعدد نمائندوں کی جانب سے حال ہی میں یکے بعد دیگرے اسلام مخالف اور نسلی تعصب سے بھرپور بیانات سامنے آئے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اور ان کی پارٹی کے کچھ اراکین سیاسی فائدہ حاصل کرنے اور اپنے قدامت پسند ووٹ بینک کو متحرک کرنے کے لیے مذہبی، دینی اور قومی شناخت پر مبنی حساس موضوعات کو ابھار رہے ہیں۔

ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں صدر ٹرمپ کے الفاظ کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ امریکی صدر کا یہ طرزِ عمل نہ صرف جمہوری قدروں کے منافی ہے بلکہ اس سے ملک کے اندر مذہبی رواداری اور ہم آہنگی کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ ڈیموکریٹک رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انتخابی مہم کو پالیسیوں اور معاشی مسائل کے بجائے نفرت انگیز بیانیے کی طرف موڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

مسلم تنظیموں کا ردعمل اور خدشات

دوسری جانب، مسلم امریکی تنظیموں، بشمول کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز (CAIR)، نے صدر کے بیان کو مسلم کمیونٹی کی سلامتی کے لیے ایک براہِ راست خطرہ قرار دیا ہے۔ تنظیمی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اعلیٰ ترین سرکاری عہدوں پر بیٹھے افراد کی جانب سے جب اس طرح کے بیانات سامنے آتے ہیں تو اس سے آن لائن ہراسانی، نفرت انگیز جرائم (Hate Crimes) اور معاشرتی تقسیم کو مزید ہوا ملتی ہے۔ یاد رہے کہ عالمی سطح پر مختلف معاملات پر جاری کشیدگی کے درمیان، اقوام متحدہ کا انتباہ، انٹرنیٹ پر بچے اور نوجوان غیر محفوظ ہیں جیسا معاملہ ہو یا پھر دیگر عالمی پیش رفت، ذمہ دارانہ بیانات ہی امن کی ضمانت ہو سکتے ہیں۔

اگرچہ ریپبلکن پارٹی کے کچھ رہنماؤں نے ٹرمپ کے اس بیان کو سیاسی جملے بازی اور مخالفین کے سخت سیاسی ایجنڈے کا ردِعمل قرار دے کر ان کا دفاع کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن امریکی اور بین الاقوامی میڈیا میں اس بیان پر شدید بحث چھڑ چکی ہے۔ وسط المدتی انتخابات میں جس طرح کا سخت ماحول بن رہا ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آنے والے دنوں میں سیاسی و مذہبی پولرائزیشن مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، جہاں بنیادی عوامی مسائل کی جگہ متنازع بیانات سیاسی منظرنامے پر حاوی دکھائی دیتے ہیں۔ یہ صورتحال، جیسا کہ ریاست تمام پاکستانیوں کے حقوق کے تحفظ کی ذمہ دار ہے: انعام الرحمان نے اپنے ایک بیان میں اشارہ کیا، کسی بھی جمہوری معاشرے میں اقلیتوں اور سیاسی مخالفین کے تحفظ کے لیے خطرے کی گھنٹی ثابت ہو سکتی ہے۔ مزید برآں، ایسے ماحول میں پاکستان کی ترقی تمام شہریوں کی خدمات سے مستحکم ہے، آصفہ بھٹو جیسے بیانات قومی یکجہتی کے لیے مشعل راہ بن سکتے ہیں۔

ٹیگز: #اسلامو فوبیا #امریکی سیاست #انتخابات #ڈونلڈ ٹرمپ #ڈیموکریٹک پارٹی
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں