پاکستان اور روس کے درمیان دو مال بردار ریلوے کوریڈورز قائم کرنے کا منصوبہ

پاکستان اور روس کے درمیان دو مال بردار ریلوے کوریڈورز قائم کرنے کا منصوبہ
اسلام آباد۔11 اگست: پاکستان اور روس نے ماسکو سے فیصل آباد اور کراچی تک دو طرفہ مال بردار ریلوے کوریڈورز قائم کرنے کے منصوبے پر کام تیز کر دیا ہے، جبکہ دونوں ممالک نے زرعی مشینری، کھاد، زرعی ادویات، ویکسین اور مویشیوں کی صحت سے متعلق ٹیکنالوجی میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔
روس کے سفیر البرٹ پی خورِیف کے مطابق دونوں ممالک کے متعلقہ ادارے ماسکو-فیصل آباد اور ماسکو-کراچی روٹس پر دونوں سمتوں میں مال بردار ریل سروس شروع کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اس منصوبے میں بیلاروس کو بھی شامل کرنے کے امکان پر غور کیا جا رہا ہے۔
روسی سفیر نے بتایا کہ 2025 اور 2026 کے اوائل میں خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث مجوزہ ریلوے رابطوں کے منصوبے میں کئی مرتبہ تاخیر ہوئی۔ اب دونوں ممالک معاہدوں کو حتمی شکل دینے اور ان تجارتی اداروں کی نشاندہی کرنے میں مصروف ہیں جو ان کوریڈورز کے ذریعے سامان کی نقل و حمل کر سکیں گے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے روسی وزارت اقتصادی ترقی کے نمائندے نکیتا بوزانوف سے ملاقات میں زرعی تجارت اور تکنیکی تعاون کے عملی شعبوں پر تبادلہ خیال کیا۔
رانا تنویر حسین نے کہا کہ پاکستان روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو ایسے ٹھوس منصوبوں میں تبدیل کرنا چاہتا ہے جو زرعی پیداوار میں اضافہ، پیداواری لاگت میں کمی اور غذائی تحفظ کے استحکام میں مدد دے سکیں۔ انہوں نے زرعی شعبے میں جدید مشینری اور ٹیکنالوجی تک رسائی بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
وفاقی وزیر نے روس سے معیاری کھاد اور زرعی ادویات کی قابل اعتماد اور مناسب قیمتوں پر فراہمی کے علاوہ لائیو اسٹاک اور حیوانی صحت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے، خصوصاً ویکسین اور بیماریوں سے بچاؤ کی جدید ٹیکنالوجی فراہم کرنے کی بھی درخواست کی۔
روسی نمائندے نے کہا کہ روسی کمپنیاں اور ادارے پاکستان کو زرعی مشینری، کھاد، زرعی ادویات اور ویکسین فراہم کرنے کے مواقع تلاش کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روس پاکستان کی زرعی ضروریات کا جائزہ لینے اور دوطرفہ تعاون کے لیے مؤثر طریقہ کار وضع کرنے میں بھی تعاون کرے گا۔
دونوں جانب سے زرعی مصنوعات کی دوطرفہ تجارت بڑھانے اور متعلقہ اداروں کے درمیان روابط مضبوط بنانے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفاقی وزیر نے متعلقہ حکام کو تعاون کے ممکنہ شعبوں کا جائزہ لینے اور روسی حکام کے ساتھ نتیجہ خیز رابطہ کاری یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ دونوں ممالک نے مجوزہ تعاون کو عملی تجارتی اور ترقیاتی منصوبوں میں تبدیل کرنے کے لیے مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
