راولپنڈی میں روٹی کی قیمت، نانبائی ایسوسی ایشن کا منگل کو لائحہ عمل
راولپنڈی (نمائندہ خصوصی)۔ آل پاکستان نانبائی ایسوسی ایشن اور انصاف نانبائی ایسوسی ایشن کے عہدیداران نے شہر میں روٹی کی قیمتوں اور نانبائیوں کو درپیش سنگین معاشی بحران کے حوالے سے ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد کیا۔ اس اجلاس میں آٹے، فائن، میدہ اور ایل پی جی سلنڈر سمیت دیگر بنیادی ضروری اشیاء کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔
نانبائیوں کو درپیش مشکلات اور حکومتی پالیسیاں
اجلاس میں شرکاء نے متفقہ طور پر اس بات کا اعادہ کیا کہ راولپنڈی میں سرکاری آٹے کی بندش کے بعد سے صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے۔ نانبائیوں کے لیے یہ ممکن نہیں رہا کہ وہ مہنگے داموں آٹا خرید کر روٹی سرکاری نرخوں پر فروخت کریں۔ موجودہ حالات میں جہاں اسلام آباد: جماعت اسلامی شعبہ خواتین کا مہنگائی، پٹرولیم لیوی اور لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج جیسے مسائل عوام کے لیے بوجھ بنے ہوئے ہیں، وہیں چھوٹے کاروبار بھی مکمل طور پر مندی کی زد میں آ چکے ہیں۔
لائحہ عمل کا اعلان
دونوں تنظیموں کے نمائندوں نے اپنے مشترکہ ویڈیو پیغام میں واضح کیا کہ نانبائی برادری کے مسائل کے حل کے لیے اب سخت فیصلے کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حکومت پنجاب اور ضلعی انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا کہ روٹی کے نرخوں پر نظر ثانی کی جائے اور نانبائیوں کو آٹے کی فراہمی سابقہ سرکاری نرخوں پر بحال کی جائے۔ اجلاس میں یہ فیصلہ ہوا ہے کہ بروز منگل آئندہ کے حتمی لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا، جس میں ہڑتال سمیت دیگر ممکنہ آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ جس طرح ایس آئی ایف سی، پاکستان اور چین میں اسپورٹس فٹ ویئر معاہدہ جیسے اقدامات ملکی معیشت کے لیے اہم ہیں، اسی طرح نچلی سطح کے نانبائیوں کے کاروبار کا تحفظ بھی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔
مستقبل کا لائحہ عمل
اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ اگر ضلعی انتظامیہ نے مطالبات تسلیم نہ کیے تو نانبائی تنظیمیں سخت موقف اختیار کرنے پر مجبور ہوں گی۔ اس سے قبل ایف پی سی سی آئی اور آئی جی سندھ کا یوم آزادی پر مشترکہ عزم کی طرح، تمام نانبائیوں نے اپنے مطالبات کے حصول کے لیے یکجہتی برقرار رکھنے کا عہد کیا ہے۔
