نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی سیاحوں کو شاہراہِ قراقرم استعمال کرنے کی ہدایت

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ ترجمان نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) نے شمالی علاقہ جات کی اہم شاہراہوں پر ٹریفک کی شدید معطلی کے پیشِ نظر انتہائی اہم سفری ہدایت نامہ جاری کر دیا ہے۔ شاہراہِ بابوسر پر مقامِ تھک کے قریب اونچے درجے کے سیلابی ریلے کے باعث سڑک کو زیرو پوائنٹ پر تمام قسم کی آمد و رفت کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ اس صورتِ حال کے پیشِ نظر ضلعی انتظامیہ اور این ایچ اے کی جانب سے تمام مسافروں اور سیاحوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ شاہراہِ بابوسر پر سفر کرنے سے گریز کریں اور متبادل راستے کے طور پر شاہراہِ قراقرم کا استعمال کریں۔
شاہراہِ قراقرم پر ٹریفک کی صورتحال
اسی دوران، شاہراہِ قراقرم پر شنگ نالہ (گونر فارم) کے قریب ایک مال بردار ٹرک الٹنے کے باعث ٹریفک کی روانی عارضی طور پر معطل ہو گئی ہے۔ اس حادثے کے نتیجے میں شاہراہ مکمل طور پر بلاک ہو چکی ہے، اور ٹریفک کا بہاؤ متاثر ہوا ہے۔ بڑھتے ہوئے ازدحام پر قابو پانے کے لیے حکام نے گونر فارم چیک پوسٹ پر مزید گاڑیوں کے داخلے کو فوری طور پر روک دیا ہے۔ یاد رہے کہ آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز اتحاد کا 8 اگست سے ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کا اعلان پہلے ہی تجارتی حلقوں میں تشویش کا باعث ہے، جبکہ ایسے حادثات معاشی نقل و حمل کو مزید متاثر کر رہے ہیں۔
بحالی کے لیے امدادی کارروائیاں
این ایچ اے کا عملہ، ضلعی انتظامیہ دیامر اور ہنگامی امدادی ٹیموں کے ہمراہ بھاری مشینری کے ساتھ موقع پر موجود ہے اور حادثے کا شکار ٹرک کو ہٹا کر ٹریفک کی جلد از جلد بحالی کے لیے متحرک ہے۔ تمام مسافروں سے التماس ہے کہ شاہراہوں کی مکمل بحالی تک ان راستوں پر غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی سخت شرائط بجلی کی سستی فراہمی میں رکاوٹ بننے کے ساتھ ساتھ دیگر ترقیاتی کاموں کی رفتار کو بھی متاثر کر رہی ہے، تاہم شاہراہوں کی بحالی کے لیے وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ مزید براں، ملک بھر میں انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے حکومتی سطح پر کوششیں جاری ہیں اور حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ جلد ہی ٹریفک کی روانی معمول پر آ جائے گی، جس کے لیے نئے صوبوں کا قیام مؤثر طرز حکمرانی کے لیے ناگزیر ہے، بزنس لیڈرز زاہد اقبال، شاہد عمران اور سیف الرحمان کا مشترکہ بیان کے مطابق مقامی انتطامیہ کو مزید خود مختار بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔
