مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
جمعہ، 2 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 429,210 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $85,385 USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 429,210 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $85,385
قومی

آئی ایم ایف کی سخت شرائط بجلی کی سستی فراہمی میں رکاوٹ

📅 منگل، 04 اگست 2026 ✍️ Dost news ⏱ 4 منٹ
آئی ایم ایف کی سخت شرائط بجلی کی سستی فراہمی میں رکاوٹ
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ پاکستان کے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت عائد بعض پابندیاں حکومت کو بجلی کے نرخوں کا ایسا لچکدار اور مارکیٹ پر مبنی نظام متعارف کرانے سے روک رہی ہیں جس کے ذریعے بجلی کی لاگت میں کمی، بیٹری سٹوریج کے فروغ اور ملک میں صاف توانائی کی جانب منتقلی کے عمل کو تیز کیا جا سکتا ہے۔

توانائی کے شعبے میں ٹیرف اصلاحات کی ضرورت

منگل کو بین الاقوامی قابل تجدید توانائی کانفرنس کے دوران ایک نشست سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت گزشتہ کئی ماہ سے آئی ایم ایف کے ساتھ ‘ٹائم آف یوز ٹیرف’ متعارف کرانے کے لیے بات چیت کر رہی ہے، جس کے تحت بجلی کی قیمت مختلف اوقات میں پیداوار کی حقیقی لاگت کے مطابق مقرر کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا جیسے ممالک میں بجلی فراہم کرنے والی کمپنیاں اضافی پیداوار خصوصاً دن کے وقت جب شمسی توانائی زیادہ دستیاب ہوتی ہے، صارفین کو کم نرخوں پر بجلی فراہم کر سکتی ہیں، تاہم پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط کے باعث ایسا نظام نافذ نہیں کر پا رہا۔

بیٹری سٹوریج اور سمارٹ میٹرنگ کی اہمیت

اویس لغاری نے کہا کہ اگر دن کے وقت بجلی تقریباً 6 روپے فی یونٹ کی معمولی لاگت پر فراہم کی جائے تو صارفین بیٹری سٹوریج میں سرمایہ کاری کریں گے، اضافی قابل تجدید توانائی ذخیرہ کریں گے اور شام کے مہنگے اوقات میں اسے استعمال کر سکیں گے جس سے قومی گرڈ پر دباؤ میں نمایاں کمی آئے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ مجوزہ ٹیرف اصلاحات سے حکومت پر کوئی مالی بوجھ نہیں پڑے گا، جبکہ طلب میں اتار چڑھاؤ کم ہونے، گرڈ کی کارکردگی بہتر بنانے اور قابل تجدید توانائی کے زیادہ استعمال میں مدد ملے گی۔ وفاقی وزیر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کو بجلی کے نظام کی ڈیجیٹلائزیشن کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے جس میں سمارٹ میٹرنگ، بجلی کے بہاؤ کی حقیقی وقت میں نگرانی اور جدید ٹیرف نظام کے نفاذ کے لیے ضروری انفراسٹرکچر شامل ہے۔

عالمی برادری سے گرین فنانسنگ کا مطالبہ

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں معمولی حصہ ڈالنے کے باوجود عوام کی قیادت میں شمسی توانائی کے شعبے میں ایک نمایاں انقلاب برپا کیا ہے، لیکن عالمی برادری نے نہ تو اس پیش رفت کو مناسب انداز میں تسلیم کیا اور نہ ہی بجلی کے بنیادی ڈھانچے کی جدیدکاری کے لیے موثر پاکستان کا ویزا اور ماسٹرکارڈ پر انحصار کم کرنے کی تجویز، پے پاک کارڈ کے فروغ کا منصوبہ گرین فنانسنگ فراہم کی۔ سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا کہ گرڈ کی اپ گریڈیشن اور ٹیرف اصلاحات کے لیے رعایتی مالی معاونت کی فراہمی سے بجلی کی قیمتوں میں کمی، طویل المدتی توانائی کے تحفظ اور صاف توانائی کی جانب منتقلی کے عمل کو مزید تیز کیا جا سکتا ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاری کیلئے یو اے ای اور ویت نام طرز کی اصلاحات ناگزیر ہیں تاکہ ملکی معیشت کے پہیے کو رواں رکھا جا سکے۔ یاد رہے کہ حال ہی میں لاہور چیمبر کے قائم مقام صدر کا اکیڈمیا اور صنعت کے روابط پر زور دینے کے بیان سے بھی یہ واضح ہوتا ہے کہ صنعتی ترقی کے لیے توانائی کا سستا اور پائیدار نظام بنیادی شرط ہے۔

ٹیگز: #آئی ایم ایف #بجلی کے نرخ #سردار اویس احمد خان لغاری #قابل تجدید توانائی #وفاقی وزیر توانائی
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں