مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
ہفتہ، 3 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,696 USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,696
عالمی

سعودی عرب کی بحیرۂ احمر میں حوثیوں کیخلاف عالمی اتحاد کی اپیل

📅 جمعرات، 30 جولائی 2026 ✍️ Dost news ⏱ 3 منٹ
سعودی عرب کی بحیرۂ احمر میں حوثیوں کیخلاف عالمی اتحاد کی اپیل
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

ریاض (نمائندہ خصوصی)۔ سعودی عرب نے بحیرۂ احمر میں حوثی حملوں سے نمٹنے کے لیے ایک وسیع بین الاقوامی اتحاد قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ سمندری تجارت اور عالمی بحری راستوں کے تحفظ کے لیے مشترکہ عالمی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔ یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران امریکا کشیدگی پورے مشرق وسطیٰ کیلئے خطرہ بن گئی ہے جس کے اثرات سمندری تجارت پر بھی پڑ رہے ہیں۔

بحیرۂ احمر میں سکیورٹی خدشات اور عالمی تجارت

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ بحیرۂ احمر اور باب المندب کی آبی گزرگاہ میں حوثیوں کے مسلسل حملے نہ صرف خطے بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی بحری نقل و حمل کے لیے بھی سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔ سعودی عرب کا مؤقف ہے کہ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے صرف علاقائی اقدامات کافی نہیں، بلکہ بین الاقوامی برادری کو مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرتے ہوئے ایک ایسا اتحاد تشکیل دینا چاہیے جو بحری جہازوں کی حفاظت، تجارتی راستوں کے تسلسل اور عالمی معیشت کو لاحق خطرات کا مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکے۔

حوثی حملوں کا اثر عالمی سپلائی چین پر

رپورٹ کے مطابق حوثی گروپ نے غزہ جنگ کے تناظر میں اسرائیل یا اسرائیل سے وابستہ جہازوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کیا تھا، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کا دائرہ وسیع ہو گیا، جس کے باعث متعدد بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں اپنے جہازوں کا رخ بحیرۂ احمر کے بجائے جنوبی افریقہ کے راستے موڑنے پر مجبور ہوئیں۔ یاد رہے کہ پاکستان اور کویت کے مابین دفاعی تعاون کے معاہدے کی توثیق کا خیر مقدم کرتے ہیں، دفتر خارجہ کی جانب سے بھی خطے میں استحکام کے لیے ایسے اقدامات کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔

مشترکہ حکمت عملی کی اہمیت

سعودی حکام نے زور دیا کہ بحیرۂ احمر کی سلامتی صرف مشرقِ وسطیٰ کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی معیشت سے جڑا ہوا معاملہ ہے، اس لیے بین الاقوامی شراکت داروں کو مربوط اور مؤثر اقدامات کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔ حالیہ صورتحال کے پیش نظر حکومت پنجاب نے اعلیٰ سطح پر اہم بیوروکریٹک تقرریاں کر دیں ہیں تاکہ انتظامی امور کے ساتھ ساتھ خارجہ پالیسی کے اثرات کا بھی بہتر جائزہ لیا جا سکے۔ یہ مطالبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی، بحری سلامتی اور بین الاقوامی تجارت کے تحفظ سے متعلق خدشات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

ٹیگز: #بحیرہ احمر #بین الاقوامی اتحاد #حوثی #سعودی عرب #عالمی تجارت
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں