مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 21°C
جمعرات، 29 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.91 EUR/PKR 308.64 GBP/PKR 368.46 سونا/تولہ (عالمی) 417,936 PKR Bitcoin $80,360 USD/PKR 276.91 EUR/PKR 308.64 GBP/PKR 368.46 سونا/تولہ (عالمی) 417,936 PKR Bitcoin $80,360
بزنس

امریکی فوج کا لاک ہیڈ مارٹن سے 58.6 ارب ڈالر کا معاہدہ

📅 ✍️ ⏱ 3 منٹ
امریکی فوج کا لاک ہیڈ مارٹن سے 58.6 ارب ڈالر کا معاہدہ
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

واشنگٹن (نمائندہ خصوصی)۔ امریکی فوج نے معروف دفاعی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کو 58.6 ارب ڈالر مالیت کا ایک تاریخی معاہدہ سونپ دیا ہے، جو PAC-3 MSE پیٹریاٹ میزائل انٹرسیپٹرز کی تیاری کے لیے کمپنی کی تاریخ کا سب سے بڑا اور امریکی فوج کا اپنی نوعیت کا ریکارڈ معاہدہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس دفاعی معاہدے کا بنیادی مقصد امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کی فضائی و میزائل دفاعی صلاحیت کو مزید مستحکم بنانا اور تیزی سے بدلتی ہوئی عالمی سکیورٹی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔

میزائل معاہدے کی تفصیلات اور دورانیہ

رپورٹ کے مطابق یہ معاہدہ مالی سال 2026 سے 2032 تک جاری رہے گا اور اس کے تحت لاک ہیڈ مارٹن امریکی فوج کے لیے ہزاروں جدید PAC-3 MSE انٹرسیپٹر میزائل تیار کرنے کی پابند ہوگی۔ یہ معاہدہ اپریل 2026 میں طے پانے والے 4.7 ارب ڈالر کے ابتدائی معاہدے کی توسیع ہے، جسے اب ایک وسیع کثیر سالہ پروگرام کی شکل دے دی گئی ہے، جس پر پاکستان اور کویت کے مابین دفاعی تعاون کے معاہدے کی توثیق کا خیر مقدم کرتے ہیں، دفتر خارجہ جیسے عالمی دفاعی شراکت داری کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔

عالمی طلب میں اضافے کی وجوہات

یوکرین جنگ، مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران سمیت مختلف خطوں میں بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کے باعث پیٹریاٹ میزائل نظام کی عالمی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ امریکہ نے حالیہ برسوں میں اپنے اتحادی ممالک کو بھی بڑی تعداد میں پیٹریاٹ میزائل فراہم کیے ہیں، جس کے بعد اس اہم دفاعی سازوسامان کی پیداوار میں تیزی لانا ناگزیر ہو گیا تھا۔

پیداواری صلاحیت میں توسیع کا ہدف

لاک ہیڈ مارٹن کے حکام کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے وہ 2030 تک اپنی پیداواری صلاحیت میں بڑے پیمانے پر اضافہ کریں گے۔ اس مقصد کے لیے 8 سے 9 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے پیداواری مراکز کو وسعت دی جائے گی، جبکہ سالانہ پیداوار کو تقریباً 600 میزائلوں سے بڑھا کر 2,000 میزائل تک پہنچانے کا بلند ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع کی حکمت عملی

رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ دفاع میزائلوں اور دیگر دفاعی سازوسامان کی پیداوار میں تیزی لانے کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہے تاکہ مستقبل میں ممکنہ تنازعات کے دوران امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو دفاعی سازوسامان کی قلت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس معاہدے کو امریکہ کی طویل المدتی دفاعی حکمت عملی کا ایک اہم ستون قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد جدید فضائی دفاعی نظام کو ناقابل تسخیر بنانا اور عالمی سطح پر درپیش سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے دفاعی تیاریوں کو ہر لحاظ سے مکمل رکھنا ہے۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں