مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
اتوار، 4 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.83 EUR/PKR 311.48 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 429,972 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,891 USD/PKR 276.83 EUR/PKR 311.48 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 429,972 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,891
بزنس

لاہور ٹیکس بار کا پائیدار ٹیکس اصلاحات اور مشاورت پر زور

📅 منگل، 28 جولائی 2026 ✍️ Dost news ⏱ 3 منٹ
تصویر
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ لاہور ٹیکس بار ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس ریٹرنز سے متعلق تحفظات کو فوری طور پر دور کیا جائے، ایف بی آر، آئی آر ایس سسٹم اور پرال (PRAL) کے تکنیکی مسائل حل کر کے ٹیکس دہندگان کو سہولت فراہم کرے۔ لاہور ٹیکس بار کے صدر رانا ثاقب منیر، جنرل سیکرٹری فاروق گجر، نائب صدر میاں عثمان جاوید، جوائنٹ سیکرٹری علی رضا چیمہ اور فنانس سیکرٹری سعد ایوب خان نے پاکستان کے ٹیکس نظام کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹلائزیشن اور فیس لیس ٹیکسیشن وقت کی اہم ضرورت ہیں تاہم نئے نظام میں ٹیکس دہندگان کے آئینی و قانونی حقوق، شفافیت اور منصفانہ سماعت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔

ٹیکس نظام میں شفافیت اور ڈیجیٹلائزیشن کی اہمیت

انہوں نے کہا کہ فیس لیس آڈٹ اور اسیسمنٹ کے عمل میں شفافیت نہ ہونے کی صورت میں نیا نظام سہولت کے بجائے مشکلات میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ جس طرح رانا تنویر حسین کی زیر صدارت ویٹ بورڈ اجلاس، گندم درآمد کا فیصلہ کیا گیا، اسی طرح ٹیکس کے امور میں بھی سنجیدگی درکار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں سادہ، شفاف، مستحکم اور کاروبار دوست ٹیکس نظام رائج کرنے کی ضرورت ہے، ٹیکس قوانین اور ریٹرن فارمز کو آسان بنایا جائے اور تکنیکی پیچیدگیوں کا خاتمہ کیا جائے تاکہ ٹیکس دہندگان کو غیر ضروری مشکلات سے نجات مل سکے۔ مشاورت کے بغیر اصلاحات کی ناکامی کا خدشہ بار کے عہدیداران نے واضح کیا کہ حکومت، ایف بی آر اور ٹیکس پروفیشنلز کے درمیان موثر مشاورت کے بغیر پائیدار ٹیکس اصلاحات ممکن نہیں۔ ٹیکس دہندگان کے حقوق کا تحفظ، پالیسی میں تسلسل اور شفاف ڈیجیٹل نظام ہی ٹیکس کمپلائنس، سرمایہ کاری کے فروغ اور ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ معاشی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ وزیر اعظم کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے توانائی کا اہم اجلاس کی طرز پر اقتصادی فیصلوں میں اسٹیک ہولڈرز کو شامل رکھا جائے، کیونکہ طاقتور حلقے مسلم لیگ ن کی حکومت کا بوجھ اٹھانے کو تیار نہیں، گورنر سلیم حیدر کے حالیہ بیانات کے تناظر میں معاشی بہتری کے لیے اتفاق رائے اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

ٹیگز: #ایف بی آر #پاکستان #ٹیکس اصلاحات #لاہور ٹیکس بار #معیشت
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں