ایرانی وفد کا کامسیٹس یونیورسٹی کا دورہ، تعلیمی و سائنسی تعاون کا عزم
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارتِ سائنس، ریسرچ و ٹیکنالوجی (MSRT) کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے ڈپٹی منسٹر ڈاکٹر سید مہدی ابطحی فروشانی کی سربراہی میں کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد (CUI) کا خصوصی دورہ کیا۔ اس دورے کا بنیادی مقصد ہائیر ایجوکیشن، ریسرچ اور انوویشن کے شعبوں میں پاکستان اور ایران کے مابین دوطرفہ تعاون کو نئی جہتیں فراہم کرنے کے امکانات کا جائزہ لینا تھا۔ وفد میں سینئر ایڈوائزر ٹو منسٹر ڈاکٹر محمد روشن کے ہمراہ پاکستان میں موجود ایرانی سفارتخانے کے نمائندوں اور پاکستانی وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کے اعلیٰ حکام بھی شامل تھے۔
تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلۂ خیال
اس موقع پر وفد کا پرتپاک استقبال کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کے ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر راحیل قمر (تمغۂ امتیاز) نے یونیورسٹی کے دیگر اعلیٰ عہدیداران کے ہمراہ کیا۔ ملاقات کے دوران ٹیچر ایجوکیشن، نصاب کی بہتری، ڈیجیٹل لرننگ، مصنوعی ذہانت، ایجوکیشنل ٹیکنالوجی، مشترکہ تحقیق، اساتذہ و طلبہ ایکسچینجز، نیز جوائنٹ اکیڈمک سیمینارز اور ویبینارز کے انعقاد سمیت باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ واضح رہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کا گاڑیوں کی جدید نمبر پلیٹس متعارف کرانے کا فیصلہ جیسے اقدامات کی طرح کامسیٹس بھی اپنی ڈیجیٹل پالیسیوں کو مستحکم کر رہا ہے۔
کامسیٹس کا ڈیجیٹل گورننس ایکو سسٹم
اس موقع پر ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر راحیل قمر نے کامسیٹس یونیورسٹی کی تعلیمی و تحقیقی کامیابیوں اور ادارہ جاتی ترقی کا جامع جائزہ پیش کرتے ہوئے اپنے گرین اینڈ ایفیشنسی انیشی ایٹو کے تحت متعارف کرائے گئے "ڈیجیٹل گورننس ایکو سسٹم: بلڈنگ اے گرینر، اسمارٹر CUI” پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے وفد کو بتایا کہ یونیورسٹی میں الیکٹرانک فائلنگ سسٹم، میٹنگ سفیئر، سمارٹ سیلیکٹ، اربٹ، تھیسس فلو ایٹ سی یو آئی اور فسکس جیسے جدید اور مربوط ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سنگل سائن آن فریم ورک کے تحت کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ صرف الیکٹرانک فائلنگ سسٹم کے ذریعے سالانہ تیس لاکھ سے زائد صفحات کی بچت ممکن بنائی گئی، جس کے نتیجے میں یونیورسٹی کے انوائرنمنٹل فٹ پرنٹ میں بہتری آئی۔ یاد رہے کہ پاکستان کے بڑے پن بجلی منصوبوں کی لاگت میں غیر معمولی اضافہ جیسے چیلنجز کے درمیان تعلیمی اداروں کا ماحول دوست ٹیکنالوجی اپنانا ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔
سائنسی تحقیق اور اکیڈمک پارٹنر شپ
اس موقع پر ڈاکٹر فروشانی نے شاندار میزبانی پر کامسیٹس یونیورسٹی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ادارے کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن اقدامات کو سراہا۔ انہوں نے ایران کے مضبوط اعلیٰ تعلیمی، تحقیقی اور ٹیکنالوجی نظام کا حوالہ دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کے مابین ادارہ جاتی روابط کے فروغ سے سائنسی تحقیق، اختراع، علمی تبادلے اور ریجنل اکیڈمک پارٹنر شپ کو مزید تقویت ملے گی۔ وفد نے کامسیٹس آرٹ گیلری کا دورہ کیا، جہاں غزہ اور ایران سے متعلق فن پاروں کی نمائش جاری تھی، اس کے علاوہ وفد نے جنید زیدی لائبریری کا بھی معائنہ کیا اور وہاں موجود جدید علمی و تحقیقی سہولیات میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ دورے کے اختتام پر فریقین نے حکومت تین سال کے لیے چارٹر آف اکانومی متعارف کرائے، مدثر مسعود کی طرح تعلیمی شعبے میں بھی طویل مدتی پالیسی سازی اور مشترکہ اسکالرشپ پروگرامز کے ذریعے روابط کو مستحکم بنانے پر اتفاق کیا۔
