مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 19°C
پیر، 26 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.94 EUR/PKR 310.43 GBP/PKR 370.35 سونا/تولہ (عالمی) 417,373 PKR Bitcoin $80,523 USD/PKR 276.94 EUR/PKR 310.43 GBP/PKR 370.35 سونا/تولہ (عالمی) 417,373 PKR Bitcoin $80,523
بزنس

حکومت تین سال کے لیے چارٹر آف اکانومی متعارف کرائے، مدثر مسعود

📅 ✍️ ⏱ 3 منٹ
حکومت تین سال کے لیے چارٹر آف اکانومی متعارف کرائے، مدثر مسعود
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ پاکستان انڈسٹری اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن فرنٹ (پیاف) انجم نثار گروپ کے رکن اور لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق ایگزیکٹو کمیٹی ممبر مدثر مسعود چوہدری نے کہا ہے کہ موجودہ معاشی صورتحال کاروباری برادری اور صنعتکاروں کے لیے سنگین چیلنج بن چکی ہے۔ بلند شرح سود، مہنگی توانائی، بڑھتے ہوئے ٹیکسز اور روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ نے صنعتی سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

صنعت و تجارت کے فروغ کے لیے ہنگامی اقدامات کی ضرورت

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ حکومت کو صنعت، تجارت اور برآمدات کے فروغ کے لیے فوری اور موثر اقدامات کرنا ہوں گے۔ بجلی اور گیس کے نرخوں میں کمی، کاروبار دوست ٹیکس پالیسی، برآمد کنندگان کو بروقت سہولیات کی فراہمی اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار کے لیے آسان قرضوں کا نظام متعارف کرانا ناگزیر ہے۔ مدثر مسعود چوہدری نے کہا کہ پالیسیوں میں تسلسل، سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی، سرکاری اداروں میں اصلاحات اور غیر ضروری اخراجات میں کمی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

نجی شعبے کو اعتماد میں لینا وقت کا تقاضا ہے

انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت نجی شعبے کو اعتماد میں لے کر معاشی فیصلے کرے اور پیداواری شعبے کی حوصلہ افزائی کرے تو روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، برآمدات میں اضافہ ہوگا اور ملکی معیشت پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے گی۔ انہوں نے تجویز دی کہ حکومت کم از کم تین سال کے لیے ‘چارٹر آف اکانومی’ متعارف کرائے تاکہ معاشی پالیسیوں میں تسلسل برقرار رہے۔

ٹیکس نظام میں اصلاحات اور ترقیاتی فنڈز کا درست استعمال

مدثر مسعود چوہدری نے مطالبہ کیا کہ ٹیکس وصولیوں کا دائرہ بڑھانے کے لیے دستاویزی معیشت کو فروغ دیا جائے اور ٹیکس کا بوجھ پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والے صنعتکاروں کے بجائے غیر رجسٹرڈ شعبوں پر منتقل کیا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ خسارے میں چلنے والے اداروں کی نجکاری یا پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو یقینی بنایا جائے اور ترقیاتی فنڈز کو صرف برآمدات، ٹیکنالوجی اور صنعتی پیداوار بڑھانے والے منصوبوں پر خرچ کیا جائے تاکہ ملک مستقل طور پر قرضوں کے بوجھ سے نجات حاصل کر سکے۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں