ملائیشیا عالمی کلینری کپ: پاکستانی شیفس نے تاریخی سلور ٹرافی جیت لی

کوالالمپور (نمائندہ خصوصی)۔ پاکستانی شیفس نے کوالالمپور، ملائیشیا میں منعقدہ GCCM گلوبل کلینری کپ 2026 میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک کے لیے ایک تاریخی کامیابی حاصل کی ہے۔ قومی ٹیم نے پہلی مرتبہ اس باوقار بین الاقوامی مقابلے میں حصہ لیتے ہوئے نہ صرف ٹیم چیلنج سلور ٹرافی اپنے نام کی، بلکہ مجموعی طور پر چار سلور میڈلز اور پانچ ڈپلومہ آف ایکسیلنس بھی حاصل کیے۔ یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ اوورسیز پاکستانی ملکی معیشت کو مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، اور اب فنِ طباخی میں بھی دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کر رہے ہیں۔
عالمی سطح پر پاکستان کی شاندار کامیابی

بز ٹوڈے نیوز کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی پانچ رکنی ٹیم کی قیادت بین الاقوامی شہرت یافتہ شیف فائزہ بلال خان نے کی۔ محدود افرادی قوت کے باوجود ٹیم نے غیرمعمولی مہارت، نظم و ضبط اور بہترین ٹیم ورک کا مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا بھر سے شریک ٹیموں کے درمیان نمایاں کامیابی حاصل کی۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا موقع تھا کہ ملک نے GCCM ٹیم چیلنج میں شرکت کی، اور اپنے پہلے ہی مقابلے میں سلور ٹرافی جیت کر ایک نئی تاریخ رقم کر دی۔ یاد رہے کہ جس طرح لاہور چیمبر اور سائنرجیا گلوبل کے درمیان کاروباری ترقی کا معاہدہ ملک میں نئی راہیں کھول رہا ہے، اسی طرح کھیلوں اور فنون کے میدان میں ایسی کامیابیاں پاکستان کا سافٹ امیج اجاگر کرنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔

36 سے زائد ممالک کا مقابلہ
رپورٹ کے مطابق اس سال کے مقابلوں میں 36 سے زائد ممالک کے شیفس نے شرکت کی، جبکہ ایک ہزار سے زیادہ انٹریز موصول ہوئیں، جس کے باعث یہ ملائیشیا کے سب سے بڑے بین الاقوامی کلینری مقابلوں میں شمار کیا گیا۔ ایسے سخت مقابلے میں پاکستان کی کامیابی کو عالمی کلینری برادری میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ شیف فائزہ بلال خان نے نہ صرف قومی ٹیم کی قیادت کی بلکہ بین الاقوامی جج کی حیثیت سے بھی پاکستان کی نمائندگی کی۔ وہ اس وقت GCCM میں خدمات انجام دینے والی پاکستان کی واحد خاتون بین الاقوامی کلینری جج ہیں اور مسلسل دوسرے سال اس اعزاز کے ساتھ عالمی مقابلوں میں شریک ہوئیں۔ اس سے قبل بھی پاکستانی ماہرین نے عالمی سطح پر ملک کا وقار بڑھایا ہے، جیسے کہ صدر مملکت آصف علی زرداری کی 71 ویں سالگرہ منائی گئی اور اس موقع پر ملکی کامیابیوں کو سراہا گیا۔ کامیابی پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے شیف فائزہ بلال خان نے کہا کہ یہ کامیابی پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ پاکستانی وفد مختصر تھا، تاہم ٹیم کے عزم، محنت اور پیشہ ورانہ صلاحیت نے ثابت کر دیا کہ پاکستانی شیفس دنیا کے بہترین شیفس کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔
