مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 21°C
منگل، 27 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.81 EUR/PKR 309.66 GBP/PKR 369.47 سونا/تولہ (عالمی) 417,992 PKR Bitcoin $80,145 USD/PKR 276.81 EUR/PKR 309.66 GBP/PKR 369.47 سونا/تولہ (عالمی) 417,992 PKR Bitcoin $80,145
قومی

پاکستان کی تمام جامعات میں مصنوعی ذہانت کا کورس لازمی قرار

📅 ✍️ ⏱ 4 منٹ
پاکستان کی تمام جامعات میں مصنوعی ذہانت کا کورس لازمی قرار
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) نے ملک بھر کی تمام سرکاری اور نجی جامعات میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence – AI) کا لازمی کورس متعارف کرانے کا فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اس کا باقاعدہ نفاذ فال 2026 کے تعلیمی سیشن سے کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد پاکستانی طلبہ کو تیزی سے بدلتی ہوئی عالمی ڈیجیٹل معیشت اور مستقبل کے روزگار کے تقاضوں کے مطابق تیار کرنا ہے۔ یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جس سے پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ، نوٹیفکیشن جاری ہونے جیسی معاشی مشکلات کے تناظر میں نوجوانوں کے لیے نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ ایچ ای سی کی ہدایات کے مطابق تمام جامعات اپنے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ ڈگری پروگرامز میں تین کریڈٹ آورز پر مشتمل AI کورس شامل کریں گی۔ یونیورسٹیاں اسے اپنے تعلیمی ڈھانچے کے مطابق اختیاری، معاون یا بین الشعبہ جاتی مضمون کے طور پر پیش کر سکیں گی، تاہم ہر ڈگری پروگرام میں اس کی شمولیت لازمی ہوگی۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت اب صرف کمپیوٹر سائنس تک محدود ٹیکنالوجی نہیں رہی بلکہ صحت، انجینئرنگ، تجارت، میڈیا، قانون، زراعت، تعلیم اور سماجی علوم سمیت تقریباً ہر شعبے میں اس کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ایسے میں ہر طالب علم کے لیے AI کی بنیادی سمجھ بوجھ اور اس کے ذمہ دارانہ استعمال سے آگاہی ناگزیر ہو چکی ہے۔ حال ہی میں ملک میں امن و امان کی صورتحال کے تناظر میں، جیسے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ضلع ٹانک میں دہشت گردانہ حملے کی مذمت کے بعد حکومتی سطح پر ٹیکنالوجی کے فروغ کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ نئے کورس میں مصنوعی ذہانت کے بنیادی اصول، عملی استعمال، اخلاقی تقاضے، ڈیٹا پرائیویسی، سائبر سکیورٹی، شفافیت، ذمہ دارانہ استعمال اور معاشرتی اثرات جیسے موضوعات شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ طلبہ کو جدید AI ٹولز سے بھی متعارف کرایا جائے گا تاکہ وہ اپنی تعلیم، تحقیق اور پیشہ ورانہ زندگی میں ان سے مؤثر انداز میں استفادہ کر سکیں۔ ایچ ای سی کے مطابق اس اقدام سے پاکستانی جامعات میں تحقیق، اختراع اور ٹیکنالوجی پر مبنی تعلیم کو فروغ ملے گا، جبکہ فارغ التحصیل طلبہ عالمی لیبر مارکیٹ میں بہتر مسابقت کی صلاحیت حاصل کر سکیں گے۔ اس ضمن میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی چینی وزیر خارجہ سے اہم ملاقات میں بھی ٹیکنالوجی اور تعلیم کے شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ تعلیمی ماہرین نے اس فیصلے کو پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی نظام میں ایک اہم اصلاح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ AI کی بنیادی تعلیم تمام شعبوں کے طلبہ کے لیے یکساں اہمیت اختیار کر چکی ہے، اور یہ اقدام مستقبل میں ملک کی ڈیجیٹل معیشت، ٹیکنالوجی پر مبنی صنعتوں اور تحقیق و ترقی کے شعبے کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں