جام کمال خان کی کارپٹ مینوفیکچررز وفد سے برآمدات بڑھانے پر ملاقات
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے پاکستان کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد نے ایک اہم ملاقات کی جس میں قالین سازی کی صنعت کو درپیش چیلنجز اور برآمدی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر وفد نے علاقائی تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں درپیش مشکلات کے بارے میں وزیر تجارت کو آگاہ کیا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ملک میں جاری صنعتی آٹومیشن پاکستان کی معاشی مسابقت کیلئے ناگزیر ہے، شزہ فاطمہ کے وژن کے عین مطابق برآمدی شعبوں کو جدید خطوط پر استوار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
برآمدات کے فروغ کیلئے حکومتی عزم
جمعے کو جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، وزیر تجارت جام کمال خان نے ہاتھ سے بنے قالینوں کی عالمی منڈیوں میں رسائی بڑھانے اور برآمدی مسابقت کو بہتر بنانے کے لیے کلیدی اقدامات پر بات چیت کی۔ وفد نے اس بات پر زور دیا کہ ملکی برآمدات کے فروغ کے لیے ایک ایسا کاروباری ماحول ناگزیر ہے جو پالیسیوں کے تسلسل اور پیش گوئی کے قابل ہو۔ یاد رہے کہ علی پرویز ملک کی عالمی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقاتیں بھی اسی سلسلے کی کڑی ہیں تاکہ ملکی برآمدی صنعت کو توانائی اور دیگر سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
پائیدار ترقی کے لیے مشاورت
وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا کہ حکومت شفاف، قواعد پر مبنی اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں کے ذریعے ملکی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وزارتِ تجارت صنعت کاروں کی جانب سے پیش کردہ تجاویز پر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر مشاورت کرے گی تاکہ ان مسائل کا پائیدار اور قابلِ عمل حل نکالا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نجی شعبے کے تعاون سے تجارت میں حائل حقیقی رکاوٹیں دور کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ اس سے قبل بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے بھرپور وسائل فراہم کریں گے، وزیراعظم کے اعلانات بھی اسی معاشی استحکام کے عکاس ہیں جو نجی شعبے کی ترقی کے لیے ضروری ہیں۔ وفاقی وزیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی موجودہ برآمدی حکمتِ عملی ویلیو ایڈیشن، برانڈنگ اور عالمی ویلیو چینز میں شمولیت پر مرکوز ہے تاکہ ملکی معیشت کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔
