بنیادی تعلیم بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس کے ایجنڈے میں شامل ہوگی: ندیم محبوب
اوپن یونیورسٹی میں بنیادی تعلیم کے فروغ کے لیے قومی اتحاد کا آغاز؛ نصاب، وسائل اور پالیسی سازی کے عملی گروپس 2027 تا 2030 کی ترجیحات مرتب کریں گے
اسلام آباد، 3 نومبر 2026 — وفاقی سیکرٹری تعلیم ندیم محبوب نے کہا ہے کہ بچوں کی بنیادی تعلیم کو بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس کے اہم ایجنڈے میں شامل کیا جائے گا، تاکہ وفاق اور صوبے تعلیمی معیار اور بچوں کے سیکھنے کے نتائج بہتر بنانے کے لیے مشترکہ اقدامات کرسکیں۔
انہوں نے یہ اعلان علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں پاکستان میں بنیادی تعلیم کے فروغ کے لیے قومی اتحاد کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب ادارہ تعلیم و آگاہی اور وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے اشتراک سے منعقد ہوئی، جس میں وفاقی و صوبائی تعلیمی اداروں، جامعات، سول سوسائٹی اور ترقیاتی شراکت داروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
وفاق اور صوبوں کے درمیان تعلیمی تعاون
ندیم محبوب نے کہا کہ بنیادی تعلیم کو قومی تعلیمی پالیسی کا اہم حصہ بنانے سے وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون مضبوط ہوگا۔ ان کے مطابق مشترکہ کوششیں بچوں کے تعلیمی نتائج میں بہتری لانے میں مدد دے سکتی ہیں۔
بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس، جسے آئی پی ای ایم سی کہا جاتا ہے، میں اس موضوع کو شامل کرنے کا مقصد ملک بھر میں بنیادی تعلیم کے لیے مشترکہ اقدامات کو آگے بڑھانا ہے۔
تقریب سے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز اینڈ ہیومینٹیز پروفیسر ڈاکٹر سید محمد عامر شاہ اور ادارہ تعلیم و آگاہی کی سربراہ بیلا رضا جمیل سمیت ملکی و بین الاقوامی ماہرین نے بھی خطاب کیا۔
اسکولوں سے باہر بچوں کے لیے مشترکہ حکمت عملی
شرکاء کو بتایا گیا کہ پاکستان میں 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 2 کروڑ 53 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ مقررین نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتوں، تعلیمی اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کے درمیان مؤثر تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے بچوں کی تعلیم تک رسائی اور تعلیمی معیار بہتر بنانے کی کوششوں کو مربوط کیا جانا چاہیے۔
2027 سے 2030 کے لیے لائحہ عمل
اجلاس میں بنیادی تعلیم کے فروغ کے لیے نصاب، مالی وسائل، تحقیق، اعداد و شمار اور پالیسی سازی سے متعلق عملی گروپس بھی تشکیل دیے گئے۔
یہ گروپس 2027 سے 2030 تک کے لیے ترجیحات اور لائحہ عمل مرتب کریں گے، تاکہ قومی اتحاد کے تحت بنیادی تعلیم کی بہتری کے لیے کام کو واضح سمت دی جاسکے۔
