حکومت پاکستان کا عوام کو سستی گندم کی فراہمی یقینی بنانے کا فیصلہ
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی حکومت عوام کو سستی اور معیاری گندم کی فراہمی کے لیے پُرعزم ہے، اور اسی پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاق اور تمام صوبوں کے درمیان گندم کی دستیابی، قیمتوں اور سپلائی کی صورتحال پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
پاسکو کے ذخائر کی صوبوں کو منتقلی
باہمی اتفاقِ رائے سے فیصلہ کیا گیا کہ پاسکو (PASSCO) کے پاس موجود گندم کے ذخائر فوری طور پر صوبوں کی ضروریات کے مطابق فراہم کیے جائیں گے۔ اس اقدام کا مقصد ملک بھر میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانا ہے، جس طرح صنعتی آٹومیشن پاکستان کی معاشی مسابقت کیلئے ناگزیر ہے، شزہ فاطمہ نے اس سے قبل بھی معاشی استحکام کے لیے ٹھوس پالیسیوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
گندم کی درآمد کا فیصلہ
مزید یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ چونکہ صوبوں کی مجموعی ضرورت پاسکو کے دستیاب ذخائر سے زیادہ ہے، اس لیے فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کی جائے گی تاکہ ملکی ضروریات پوری کی جا سکیں اور مارکیٹ میں استحکام برقرار رہے۔ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے کہ جس طرح ادویات کی قیمتوں کا تعین عوامی مفاد کے مطابق ہونا چاہیے، وزیر خزانہ کے مطابق عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، اسی طرح گندم اور آٹے کی قیمتوں کو بھی ایک مستحکم سطح پر رکھا جائے گا۔ اس حکمت عملی کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے پاکستان عالمی تعاون کا خواہاں ہے تاکہ مستقبل میں زرعی پیداوار کو موسمی اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
