پاکستان ریلوے کا جدید نظام اور مالی استحکام کیلئے 10 سالہ روڈ میپ
اسلام آباد (اے پی پی)۔ حکومتِ پاکستان نے ریلوے کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ اور مالی طور پر مستحکم بنانے کے لیے 2033 تک کے جامع سٹریٹجک روڈ میپ پر باقاعدہ کام شروع کر دیا ہے، اس 10 سالہ منصوبے کے تحت مین لائن 1 اور مین لائن 3 کی اپ گریڈیشن، علاقائی مواصلاتی رابطوں میں بہتری اور ریلوے کے تمام شعبوں کی جدید ڈیجیٹلائزیشن جیسے بنیادی اور کلیدی منصوبوں پر پیش رفت تیزی سے جاری ہے۔
پاکستان ریلوے کا مالیاتی اہداف کا حصول
ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اسلام آباد میں "اڑان پاکستان” پروگرام کے تحت پاکستان ریلوے سے متعلق منعقدہ خصوصی گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2025-26 کے دوران پاکستان ریلوے نے 115 ارب روپے کی ریکارڈ آمدن حاصل کی، ادارے کی مجموعی آمدن میں 24.2 فیصد اضافہ ہوا اور آپریٹنگ ریشو 96 فیصد سے کم ہو کر 84 فیصد پر آ گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ملک میں ٹیکنالوجی کے فروغ کیلئے کوشاں ہے، جس طرح وزیراعظم شہباز شریف کی آئی ٹی برآمدات میں ریکارڈ اضافے پر تعریف کی گئی ہے، اسی طرح دیگر شعبوں کو بھی جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔
مال برداری اور بنیادی ڈھانچے میں تاریخی پیش رفت
وزیر ریلوے نے بتایا کہ مال برداری سے حاصل ہونے والی آمدن 32 ارب روپے سے بڑھ کر 41 ارب روپے تک پہنچ گئی اور پراپرٹی و لینڈ ریونیو میں 113 فیصد کی تاریخی پیش رفت ہوئی ہے۔ وزیر ریلوے نے فورم کے انعقاد پر وزیر منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ریلوے کی بحالی صرف ٹرانسپورٹ کا نہیں بلکہ قومی معاشی ترقی کا منصوبہ ہے۔ محمد حنیف عباسی نے کہا کہ پاکستان ریلوے کا بڑا حصہ اپنی معاشی و تکنیکی عمر پوری کر چکا ہے کیونکہ ماضی میں اس پر مطلوبہ سرمایہ کاری نہیں کی گئی۔
مستقبل کے منصوبے اور ڈیجیٹلائزیشن
انہوں نے بتایا کہ تھر کول ریلوے کنیکٹیوٹی منصوبے پر 60 فیصد کام مکمل ہو چکا جو دسمبر 2026 تک مکمل کر لیا جائے گا۔ وفاقی وزیر نے زور دیا کہ ڈیجیٹل ٹکٹنگ، سمارٹ سٹیشنز، ای آر پی سسٹمز اور نجی شعبے کی شمولیت کے ذریعے ریلوے کو محفوظ اور مالی طور پر مستحکم ادارہ بنایا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کا ملک بھر میں صحت سہولیات کیلئے نئے پروگرام کا اعلان بھی عوامی فلاح و بہبود کے اس عزم کا حصہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریلوے پر خرچ ہونے والا پیسہ اخراجات نہیں بلکہ ملک کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے، حکومت اسے دوبارہ قومی ترسیل کی ریڑھ کی ہڈی بنانے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔ حکومت کی ان کوششوں کے مثبت اثرات کا اندازہ وزیراعظم شہباز شریف کی چینی کمپنی فیمسن کے وفد سے ملاقات کے دوران ہونے والے مذاکرات سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔
