پاکستان کا عالمی بانڈز اور سکوک پروگرام کیلئے بین الاقوامی کنسورشیم کا اعلان

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ حکومت پاکستان نے عالمی سرمایہ منڈیوں سے مالی وسائل کے حصول کے لیے گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ (GMTN) اور انٹرنیشنل سکوک پروگرام کے تحت بین الاقوامی بینکوں کے کنسورشیم کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ یہ اقدام پاکستان کی بیرونی مالیاتی حکمت عملی کو مزید مستحکم بنانے اور عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے واشنگٹن ڈی سی سے ویڈیو لنک کے ذریعے منتخب بین الاقوامی بینکوں کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کی، جس کے ساتھ ہی حکومت اور ان مالیاتی اداروں کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کا باقاعدہ آغاز ہو گیا۔
بینکوں کے کنسورشیم کا انتخاب اور حکمت عملی
حکومت نے ایک شفاف اور مسابقتی عمل کے بعد مختلف مالیاتی پروگراموں کے لیے بینکوں کے کنسورشیم منتخب کیے ہیں۔ یورو بانڈز کے لیے اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک، سٹی بینک، ڈوئچے بینک، ایمریٹس این بی ڈی کیپیٹل اور MUFG Securities Asia Limited کو شامل کیا گیا ہے، جبکہ بین الاقوامی سکوک پروگرام کے لیے اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک، دبئی اسلامک بینک، سٹی بینک، ایمریٹس این بی ڈی کیپیٹل اور مشریق بینک کا انتخاب کیا گیا ہے۔ اسی طرح روپے میں نامزد مگر امریکی ڈالر میں سیٹل ہونے والے بانڈز کے لیے اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک، سٹی بینک اور ڈوئچے بینک کو منتخب کیا گیا ہے۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق یہ کنسورشیم تین سال کے لیے مقرر کیے گئے ہیں اور روایتی بانڈز، اسلامی مالیاتی ذرائع اور دیگر خودمختار سرمایہ کاری پروگراموں کے اجرا میں حکومت کی معاونت کریں گے۔ جس طرح وزیراعظم آفس میں مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید نظام کا افتتاح ہوا ہے، اسی طرح حکومت اپنی مالیاتی ضروریات کے مطابق ان جدید پلیٹ فارمز کے ذریعے وقتاً فوقتاً عالمی سرمایہ منڈیوں سے فنڈز حاصل کرے گی۔
معاشی استحکام اور سرمایہ کاروں کا اعتماد
بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت کا مقصد صرف مالی وسائل اکٹھے کرنا نہیں بلکہ ایک متنوع، پائیدار اور مارکیٹ پر مبنی مالیاتی پلیٹ فارم تشکیل دینا ہے، جس سے سرمایہ کاروں کی تعداد میں اضافہ، قرض لینے کی لاگت میں کمی اور عالمی سرمایہ منڈیوں میں پاکستان کی طویل مدتی موجودگی مضبوط ہوگی۔ حکومتی اقدامات قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کی عدالتی اصلاحات کے فریم ورک منظوری کی طرح ملکی معیشت میں بہتری کا عندیہ ہیں۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی صورتحال، مالیاتی نظم و ضبط، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری، قرضوں کے استحکام اور جاری ساختی اصلاحات کے باعث عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے۔ جیسے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت پاکستان کی سفارتی حکمت عملی کے تحت اقدامات کیے جا رہے ہیں، اسی طرح حکومت نے منتخب بین الاقوامی بینکوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ان کے تعاون سے پاکستان عالمی سرمایہ منڈیوں میں اپنی آئندہ مالیاتی سرگرمیاں کامیابی سے مکمل کرے گا۔
