مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 19°C
جمعرات، 29 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.91 EUR/PKR 308.64 GBP/PKR 368.46 سونا/تولہ (عالمی) 419,815 PKR Bitcoin $79,930 USD/PKR 276.91 EUR/PKR 308.64 GBP/PKR 368.46 سونا/تولہ (عالمی) 419,815 PKR Bitcoin $79,930
عالمی

برطانیہ میں مصنوعی ذہانت کے مراکز کو پانی کی شدید قلت کا سامنا

📅 ✍️ ⏱ 4 منٹ
برطانیہ میں مصنوعی ذہانت کے مراکز کو پانی کی شدید قلت کا سامنا
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

لندن (نمائندہ خصوصی)۔ برطانیہ میں مصنوعی ذہانت (AI) اور ڈیٹا سینٹرز کی تیزی سے بڑھتی ہوئی صنعت کو مستقبل میں پانی کی قلت کے باعث بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پانی کی فراہمی سے متعلق اداروں کی نمائندہ تنظیم واٹر یو کے (Water UK) نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ آبی وسائل مجوزہ ڈیٹا سینٹرز کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی نہیں، جس سے قومی سطح پر پانی کے انتظام اور منصوبہ بندی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

پانی کے وسائل اور مصنوعی ذہانت کا مستقبل

برطانوی اخبار "دی گارڈین” کے مطابق واٹر یو کے نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سینٹرز کی توسیع سے قبل پانی کی دستیابی کو قومی منصوبہ بندی کا لازمی حصہ بنایا جائے۔ تنظیم کے مطابق موجودہ واٹر ریسورس پلانز میں ڈیٹا سینٹرز کی مستقبل کی پانی کی ضروریات کا مکمل تخمینہ شامل نہیں، جس سے آنے والے برسوں میں فراہمی اور طلب کے درمیان نمایاں فرق پیدا ہو سکتا ہے۔ جیسے کہ بین الاقوامی طلبہ کی تعداد میں کمی سے برطانیہ کو اربوں ڈالر نقصان کا خدشہ ہے، اسی طرح ڈیٹا سینٹرز کی توسیع بھی ملک کی معیشت کے لیے ایک نیا امتحان بن سکتی ہے۔

ڈیٹا سینٹرز کی پانی کی بھاری کھپت

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جدید ڈیٹا سینٹرز اپنے طاقتور کمپیوٹنگ سسٹمز کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے روزانہ لاکھوں لیٹر پانی استعمال کرتے ہیں۔ بعض بڑے مراکز کی یومیہ پانی کی کھپت تقریباً 30 لاکھ لیٹر تک پہنچ سکتی ہے، جو تقریباً 3,500 گھروں کی روزانہ ضروریات کے برابر ہے۔ اگر حکومت 2030 تک ڈیٹا سینٹرز کی استعداد میں خاطر خواہ اضافہ کرتی ہے تو پانی کی طلب میں بھی نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ یاد رہے کہ قومی آبادی استحکام منصوبہ 2026-2036 کے مسودے پر اعلیٰ سطحی جائزہ بھی جاری ہے، جس میں وسائل کی تقسیم کا معاملہ سرفہرست ہے۔

حکومتی پالیسی اور ماحولیاتی تحفظ

واٹر یو کے نے نشاندہی کی کہ برطانیہ، بالخصوص جنوب مشرقی انگلینڈ، پہلے ہی پانی کی قلت کے خطرے سے دوچار ہے، جبکہ نئے آبی ذخائر، پائپ لائنوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ تنظیم نے حکومت پر زور دیا کہ خشک سالی اور پانی کی محدود دستیابی کی صورت میں ترجیحات کا واضح تعین کیا جائے۔ جیسا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے چین میں پاکستانی سفیر کی ملاقات، چینی ہم منصب سے طے شدہ معاہدوں پر زور کے دوران اقتصادی تعاون پر بات ہوئی، برطانیہ کو بھی اپنی ٹیکنالوجی اور وسائل کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ڈیٹا سینٹرز کی تیز رفتار توسیع اور پانی کے دستیاب وسائل کے درمیان مؤثر توازن قائم نہ کیا گیا تو نہ صرف گھریلو صارفین بلکہ ماحولیات پر بھی اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں