بین الاقوامی طلبہ کی تعداد میں کمی سے برطانیہ کو اربوں ڈالر نقصان
لندن (نمائندہ خصوصی)۔ برطانیہ میں بین الاقوامی طلبہ کے داخلوں میں مسلسل کمی کے نتیجے میں ملکی معیشت کو تقریباً 4 ارب ڈالر (2.9 ارب پاؤنڈ) کے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ایک نئی تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر غیر ملکی طلبہ کی تعداد میں کمی کا یہ رجحان اسی رفتار سے جاری رہا تو نہ صرف اعلیٰ تعلیم کا شعبہ بلکہ مقامی کاروبار اور برطانیہ کی عالمی تعلیمی ساکھ بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ جس طرح امریکی جامعات میں غیر ملکی طلبہ کی داخلہ درخواستوں میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے، کچھ اسی طرح کے حالات اب برطانوی تعلیمی نظام کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں۔
تعلیمی شعبے کو درپیش بحران اور معاشی اثرات
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ دو تعلیمی سالوں کے دوران برطانیہ کی جامعات میں پہلے سال کے بین الاقوامی طلبہ کے داخلوں میں تقریباً 54 ہزار 500 کی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جو کل تعداد کا 12 فیصد بنتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ حکومت کی جانب سے حالیہ پالیسیوں نے طلبہ کے رجحانات کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ حالانکہ حکومت دیگر امور پر بھی توجہ مرکوز کر رہی ہے، جیسے کہ حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی درآمد کیلئے پی ایس او کو نامزد کر دیا ہے، لیکن تعلیمی برآمدات میں ہونے والی یہ کمی قومی معیشت کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہے۔ سخت امیگریشن قوانین کے اثرات رپورٹ کے مطابق برطانوی حکومت کی جانب سے امیگریشن قوانین میں سختی، طلبہ کے اہل خانہ کو ساتھ لانے پر عائد پابندیاں، گریجویٹ روٹ ویزا کی مدت میں کمی اور مالی اہلیت کے سخت تقاضوں نے غیر ملکی طلبہ کے لیے برطانیہ کو نسبتاً کم پرکشش بنا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی طلبہ نہ صرف تعلیمی اداروں کی آمدنی کا اہم ذریعہ ہیں بلکہ رہائش، ٹرانسپورٹ، خریداری اور خوراک جیسے شعبوں میں بھی گراں قدر معاشی سرگرمی پیدا کرتے ہیں۔ ان طلبہ کی کمی کے باعث جہاں تعلیمی ادارے مالی دباؤ کا شکار ہیں، وہیں مقامی کاروبار بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ یاد رہے کہ مختلف شعبوں میں پالیسی سازی کے حوالے سے حکومتی اقدامات پر نظر رکھنا ضروری ہے، جیسا کہ وفاقی وزیر علی پرویز ملک کی کے یو ایف پی ای سی کے نائب صدر سے ملاقات جیسے اقدامات ملکی معیشت میں بہتری کے لیے ناگزیر ہوتے ہیں۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر موجودہ امیگریشن پالیسیوں پر نظرثانی نہ کی گئی تو طلبہ آسٹریلیا، کینیڈا اور یورپی ممالک کا رخ کر سکتے ہیں، جس سے برطانیہ کی عالمی تعلیمی مسابقت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔
