پاکستان اور کینیڈا کا تجارتی و سیکورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ پاکستان اور کینیڈا نے پیر کے روز تجارت، سرمایہ کاری، سیکورٹی اور ترقیاتی شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک نے دوطرفہ روابط کو ادارہ جاتی شکل دینے کے عزم کا اعادہ کیا، جبکہ کینیڈا نے پاکستان میں سیکورٹی اور ترقیاتی اقدامات کے لیے 47 ملین ڈالر سے زائد کی امداد کا اعلان کیا ہے۔
وزارت خارجہ میں کینیڈین وزیر خارجہ انیتا آنند کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور کینیڈا کے تعلقات تاریخی روابط، عوام کے مابین گہرے تعلقات اور کینیڈا میں مقیم متحرک پاکستانی کمیونٹی پر مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں جانب سے حالیہ دورے کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے ادارہ جاتی تعاون، باقاعدہ دوطرفہ مشاورت اور متعلقہ وزارتوں کے درمیان رابطوں کو بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ اقتصادی تعاون دوطرفہ تعلقات کا مرکزی ستون ہے جس میں تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ، بزنس ٹو بزنس روابط کی سہولت اور باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون پر توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کینیڈین کمپنیوں کو پاکستان کے ترجیحی شعبوں بشمول تعلیم، توانائی، کان کنی، زراعت، انفراسٹرکچر اور انفارمیشن ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔
ڈار نے اعلان کیا کہ دونوں ممالک وزیراعظم شہباز شریف کی موجودگی میں کینیڈین کینولا کی درآمد کے لیے ایک نئے پروٹوکول پر دستخط کریں گے جس سے متعلق مزید معلومات پاکستان اور کینیڈا کے مابین کینولا درآمدی پروٹوکول پر دستخط کے تناظر میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے اداروں نے فوڈ سیفٹی اور زرعی تجارت میں تکنیکی تعاون کے لیے بھی اتفاق کیا ہے۔
فارن انویسٹمنٹ پروموشن اینڈ پروٹیکشن ایگریمنٹ (FIPA) کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ معاہدے کے جلد اور باہمی فائدہ مند اختتام کے لیے کام جاری رہے گا۔
سیاسی و علاقائی امور پر تبادلہ خیال
مذاکرات میں تعلیم، لیبر موبلٹی، سائنس و ٹیکنالوجی، موسمیاتی تبدیلی اور قونصلر امور پر بھی بات چیت ہوئی۔ نائب وزیراعظم نے مقبوضہ جموں و کشمیر کا دیرینہ تنازعہ بھی اٹھایا اور انڈس واٹرز ٹریٹی کی بحالی کے لیے کینیڈا کے تعاون کی اپیل کی۔ کینیڈین وزیر خارجہ انیتا آنند نے کہا کہ یہ دورہ اس لیے بھی اہم ہے کہ گزشتہ 20 برسوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پاکستان کا یہ پہلا دورہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کینیڈا کی عالمی تجارتی حکمت عملی میں اہم حیثیت رکھتا ہے۔
انیتا آنند نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں حکومتوں نے ایف آئی پی اے (FIPA) کے جلد نفاذ پر اتفاق کیا ہے۔ زرعی تعاون کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کینیڈا پاکستانی چاول، ٹیکسٹائل اور کھیلوں کے سامان کی برآمدات میں اضافے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے ریکوڈک مائننگ پروجیکٹ اور جے سی ایم پاور کے منصوبوں کا بھی ذکر کیا۔
نئی امدادی پیکیجز کا اعلان
انیتا آنند نے اعلان کیا کہ کینیڈا سیکورٹی تعاون کے تین منصوبوں کے لیے 2.2 ملین ڈالر فراہم کرے گا جو بارڈر مینجمنٹ اور انسداد دہشت گردی پر مرکوز ہوں گے۔ مزید برآں، انہوں نے موسمیاتی بحالی، لڑکیوں کی تعلیم، تولیدی صحت اور سیلاب سے بحالی کے لیے 45 ملین ڈالر کی نئی ترقیاتی امداد کا اعلان کیا، جس کے لیے آغا خان فاؤنڈیشن اور اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے ساتھ شراکت داری کی جائے گی۔ یاد رہے کہ اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف اور کینیڈین وزیر خارجہ کی اہم ملاقات بھی منعقد ہوئی تھی جبکہ اس دورے کے دوران کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند کی آرمی چیف سید عاصم منیر سے اہم ملاقات بھی ہوئی تھی۔
