رات کو پڑھنے والی مختصر تسبیحات اور ہزار نیکیوں کی بشارت
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر بے شمار رحمتیں نازل فرمائی ہیں۔ ان رحمتوں میں ایک عظیم نعمت یہ ہے کہ اس نے ایسے آسان اعمال عطا فرمائے ہیں جن پر عمل کر کے انسان بہت زیادہ اجر و ثواب حاصل کر سکتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کو ایسے متعدد اذکار اور دعائیں سکھائیں جو نہ صرف گناہوں کی معافی، دل کے سکون اور روحانی اطمینان کا ذریعہ بنتی ہیں بلکہ جنت کے حصول کا سبب بھی ہیں۔ انہی مسنون اذکار میں رات کو سونے سے پہلے پڑھی جانے والی تسبیحات بھی شامل ہیں جن کی فضیلت صحیح احادیث میں بیان ہوئی ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "دو ایسے اعمال ہیں کہ اگر کوئی مسلمان ان کی پابندی کرے تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ یہ اعمال بہت آسان ہیں، مگر ان پر عمل کرنے والے بہت کم ہیں۔” (سنن ابی داود: 5065/5067، جامع ترمذی)
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پہلا عمل یہ ہے کہ ہر فرض نماز کے بعد دس مرتبہ "سُبْحَانَ اللَّهِ”، دس مرتبہ "الْحَمْدُ لِلَّهِ” اور دس مرتبہ "اللَّهُ أَكْبَرُ” کہا جائے۔ پانچوں فرض نمازوں کے بعد یہ مجموعی طور پر زبان سے ایک سو پچاس کلمات بنتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ان کا اجر میزان میں ایک ہزار پانچ سو نیکیوں کے برابر عطا فرماتا ہے۔ یہ عمل صرف چند لمحے لیتا ہے، مگر اس کا اجر انتہائی عظیم ہے۔
دوسرا عمل رات کو سونے سے پہلے کیا جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بستر پر لیٹتے وقت چونتیس مرتبہ "اللَّهُ أَكْبَرُ”، تینتیس مرتبہ "الْحَمْدُ لِلَّهِ” اور تینتیس مرتبہ "سُبْحَانَ اللَّهِ” پڑھا جائے۔ یہ زبان سے صرف ایک سو مرتبہ ذکر بنتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا اجر ایک ہزار نیکیوں کے برابر لکھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس حدیث کو "ہزار نیکیوں والی تسبیحات” کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے خود رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ ان اذکار کو اپنی انگلیوں پر شمار فرمایا کرتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تسبیحات انگلیوں پر شمار کرنا سنت نبوی ہے، اگرچہ ضرورت کے وقت تسبیح یا کسی اور ذریعے سے شمار کرنا بھی جائز ہے۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! جب یہ اعمال اتنے آسان ہیں تو پھر ان پر عمل کرنے والے کم کیوں ہیں؟” آپ ﷺ نے فرمایا کہ شیطان انسان کو غفلت میں مبتلا کر دیتا ہے۔ سونے کے وقت وہ انسان کو جلد نیند میں ڈال دیتا ہے تاکہ وہ یہ اذکار مکمل نہ کر سکے، اور نماز کے بعد اسے دنیاوی کام یاد دلا دیتا ہے تاکہ وہ ذکر کیے بغیر اپنی جگہ سے اٹھ جائے۔ اس ارشاد سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ مسلمان کو چھوٹے مگر عظیم اجر والے اعمال سے محروم کر دے۔
یہ حدیث ہر مسلمان کے لیے ایک اہم نصیحت ہے کہ وہ اپنی زندگی میں ان مسنون اذکار کو مستقل معمول بنا لے۔ نماز کے بعد چند لمحے اللہ کا ذکر کرنا اور رات کو سونے سے پہلے یہ تسبیحات پڑھ لینا نہایت آسان عمل ہے، لیکن اس کا اجر بے حد عظیم ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دل کو سکون، زبان کو ذکر کی عادت، ایمان میں تازگی اور اللہ تعالیٰ کی قربت بھی نصیب ہوتی ہے۔ یہ اذکار انسان کو غفلت سے نکال کر اللہ کی یاد سے جوڑتے ہیں اور اس کے شب و روز کو بابرکت بنا دیتے ہیں۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ان فضائل کے حصول کے لیے اخلاص، سنت کی پیروی اور پابندی ضروری ہے۔ محض ایک آدھ مرتبہ پڑھ لینے کے بجائے انہیں روزانہ کا معمول بنایا جائے۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے بندوں کے معمولی اعمال کو بھی کئی گنا بڑھا کر قبول فرماتا ہے، اور یہی اس کی بے پایاں رحمت کا مظہر ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں رسول اللہ ﷺ کی سکھائی ہوئی ان مسنون تسبیحات کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنانے، اخلاص کے ساتھ ان پر عمل کرنے اور ان کے ذریعے دنیا و آخرت کی کامیابیاں حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
حوالہ: سنن ابی داود (حدیث: 5065/5067)، جامع ترمذی، صحیح ابن حبان۔ اس روایت کو متعدد محدثین نے صحیح قرار دیا ہے۔
