پاکستان نے خواتین سے متعلق او آئی سی وزارتی کانفرنس کی صدارت سنبھالی
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ پاکستان نے اسلام آباد میں خواتین سے متعلق نویں او آئی سی وزارتی کانفرنس کی صدارت سنبھال لی ہے۔ پیر کے روز نویں او آئی سی وزارتی کانفرنس کے دوران صدارت سنبھالنے کے بعد وفاقی وزیر برائے قانون، انصاف و انسانی حقوق اعظم نذیر تارڑ نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان اس صدارت کو ایک ایسی ذمہ داری سمجھتا ہے جو پوری اسلامی دنیا میں خواتین کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے مشترکہ خواہشات کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
پاکستان کا خواتین کو بااختیار بنانے کا عزم
وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ پاکستان تجربات کے تبادلے کو فروغ دے گا، عملی تعاون کی حوصلہ افزائی اور خواتین کو بااختیار بنانے کے مشترکہ عزم کو آگے بڑھائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خواتین کے حقوق، مواقع اور قیادت کو آگے بڑھانے کے لیے اپنے قانونی، پالیسی اور ادارہ جاتی فریم ورک کو مسلسل مضبوط بنا رہا ہے۔ یہ کوششیں اسلام آباد او آئی سی کانفرنس: مسلم خواتین کی بااختیاری کا امتحان کے تناظر میں نہایت اہمیت کی حامل ہیں۔
ڈیجیٹل تفریق اور انصاف تک رسائی
اعظم نذیر تارڑ نے مزید کہا کہ ہم خواتین کی قیادت، مالیاتی شعبے میں ان کی شمولیت اور کاروبار کو وسعت دے رہے ہیں، ڈیجیٹل تفریق کو ختم کر رہے ہیں، انصاف تک رسائی کو آسان بنا رہے ہیں اور کام کے مقامات پر محفوظ و مزید سازگار ماحول پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ہماری اجتماعی کوشش یہ یقینی بنانا ہے کہ کوئی بھی عورت یا لڑکی تنازعہ، غربت اور عدم مساوات کی وجہ سے پیچھے نہ رہ جائے۔ اس ضمن میں عالمی سطح پر جاری بھارت میں بڑھتا تعصب، انسانی حقوق کا بحران اور جمہوریت پر اٹھتے سوالات جیسے مسائل پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
صدارت کی منتقلی
اس موقع پر مصر کی قومی کونسل برائے خواتین کی صدر امل عمار نے اپنے خطاب میں وزیر قانون، انصاف و انسانی حقوق اعظم نذیر تارڑ کو خواتین سے متعلق نویں او آئی سی وزارتی کانفرنس کی صدارت سنبھالنے کی دعوت دی۔ یاد رہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے اہم اہداف میں وزیراعظم شہباز شریف ایک روزہ سرکاری دورے پر قطر پہنچ گئے اور وہاں ہونے والے مذاکرات بھی خطے کی ترقی کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں۔
