او آئی سی خواتین کانفرنس، اسلام آباد اعلامیہ اور بااختیاری کا عزم
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی خواتین سے متعلق نویں وزارتی کانفرنس میں اسلام آباد اعلامیہ منظور کر لیا گیا ہے، جس میں رکن ممالک نے خواتین اور بچیوں کو سماجی، اقتصادی اور سیاسی طور پر بااختیار بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ اس اہم تقریب میں مسلم دنیا میں خواتین کی ڈیجیٹل شمولیت کو فروغ دینے کے لیے ایک نئے اقدام کا بھی آغاز کیا گیا ہے۔ او آئی سی کی سرکاری ویب سائٹ پر دستیاب تفصیلات کے مطابق، پیر کو کانفرنس میں شریک وزراء اور وفود کے سربراہان نے خواتین کی سیاسی، معاشی اور عوامی زندگی میں مؤثر شرکت کو یقینی بنانے کے لیے پالیسیوں اور ادارہ جاتی نظام کو مزید مستحکم کرنے کا عہد کیا۔
خواتین کی تعلیم اور معاشی استحکام
اعلامیہ میں رکن ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ خواتین کی تعلیم اور روزگار میں حائل رکاوٹوں کو دور کریں۔ معیاری تعلیم، فنی و پیشہ ورانہ تربیت اور قائدانہ صلاحیتوں کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ خواتین کو مالی وسائل، کاروباری معاونت اور سماجی تحفظ کے نظام تک بہتر رسائی فراہم کی جائے گی۔ اعلامیہ میں جامع مالیاتی نظام، بشمول اسلامی مالیات اور مائیکروفنانس کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا، تاکہ اسلام آباد او آئی سی کانفرنس: مسلم خواتین کی بااختیاری کا امتحان کے تناظر میں عملی اقدامات کیے جا سکیں۔
ڈیجیٹل شمولیت اور نئی ٹیکنالوجی
اعلامیہ میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (STEM) کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت (اے آئی) میں خواتین کی شمولیت کو انتہائی اہم قرار دیا گیا۔ کانفرنس کے دوران ‘اسلام آباد انیشی ایٹو برائے خواتین کی ڈیجیٹل شمولیت’ کا آغاز کیا گیا، جو ایک رضاکارانہ پلیٹ فارم ہے جس کا مقصد خواتین کو ڈیجیٹل خواندگی اور جدید ٹیکنالوجی تک مساوی رسائی فراہم کرنا ہے۔
تشدد کا خاتمہ اور یکجہتی کا اظہار
اعلامیہ میں خواتین کے خلاف ہر قسم کے تشدد، سائبر ہراسانی اور آن لائن بدسلوکی کے خلاف اقدامات کو مزید سخت کرنے پر زور دیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ، مسلم خواتین کے خلاف اسلاموفوبیا اور امتیازی سلوک کے تدارک کے لیے بین الاقوامی تعاون بڑھانے کی اپیل کی گئی۔ اعلامیہ میں فلسطین اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کی خواتین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے انہیں ہر ممکن معاونت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
عملی اقدامات پر زور
اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے او آئی سی کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل سفیر ڈاکٹر طارق علی بخیت نے کہا کہ کانفرنس کے دوران منظور کی گئی قراردادیں مسلم اُمہ کی خوشحالی کا بنیادی ستون ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کامیابی کا اصل معیار صرف دستاویزات کی منظوری نہیں بلکہ ان پر مؤثر عمل درآمد ہے۔ انہوں نے پاکستان کو کانفرنس کی کامیاب میزبانی اور چیئرمین شپ سنبھالنے پر مبارکباد دی۔
