جرمنی میں بیماری کی چھٹی کے قوانین سخت، فون پر سِک لیو کی سہولت ختم

برلن: جرمنی کی وفاقی حکومت نے ملازمین کی بیماری کی چھٹی سے متعلق پالیسی میں اہم تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے ٹیلی فون کے ذریعے سِک لیو حاصل کرنے کی سہولت ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت ملازم اگر بیماری کی وجہ سے کام پر حاضر نہیں ہو سکتا تو اسے پہلے ہی روز ڈاکٹر سے معائنہ کرا کر میڈیکل سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہوگا۔
یہ اقدام چانسلر فریڈرش مرز کی حکومت کی وسیع معاشی اصلاحات کا حصہ ہے، جس کا مقصد ملازمین کی غیر حاضری میں کمی لانا، کاروباری سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانا اور جرمن معیشت کی پیداواری صلاحیت کو بہتر کرنا ہے۔
سرکاری مؤقف کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران بیماری کی بنیاد پر لی جانے والی چھٹیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جس سے صنعتی اور تجارتی شعبے متاثر ہوئے۔ حکومت کا خیال ہے کہ فون پر سِک نوٹ جاری کرنے کی سہولت بعض مواقع پر غلط استعمال کا باعث بنی، اسی لیے اب ہر بیمار ملازم کے لیے ڈاکٹر کا براہِ راست طبی معائنہ لازمی قرار دیا جا رہا ہے۔
کووڈ-19 وبا کے دوران شہریوں کی سہولت اور اسپتالوں پر دباؤ کم کرنے کے لیے ٹیلی فون کے ذریعے سِک نوٹ جاری کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ تاہم موجودہ حکومت کا کہنا ہے کہ وبائی حالات ختم ہونے کے بعد اس سہولت کو برقرار رکھنے کی ضرورت نہیں رہی۔
ٹریڈ یونینز اور اپوزیشن کا تحفظات کا اظہار
دوسری جانب اس فیصلے پر ٹریڈ یونینز، طبی ماہرین اور اپوزیشن جماعتوں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ناقدین کے مطابق معمولی نوعیت کی بیماری میں بھی مریضوں کو ڈاکٹر کے پاس جانے پر مجبور کرنا صحت کے نظام پر اضافی بوجھ ڈالے گا، جبکہ ملازمین کے لیے غیر ضروری مشکلات بھی پیدا ہوں گی۔
حکومتی موقف اور معاشی اصلاحات
حکومت کا کہنا ہے کہ بیماری کی چھٹی کے نظام میں یہ تبدیلی صرف ایک اصلاح نہیں بلکہ ان وسیع اقدامات کا حصہ ہے جن کے ذریعے جرمنی کو معاشی سست روی سے نکالنے، سرکاری اخراجات پر قابو پانے اور کاروباری ماحول کو مزید مستحکم بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ماہرین کی رائے اور مستقبل کا لائحہ عمل
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ سخت قوانین سے غیر ضروری چھٹیوں میں کمی آ سکتی ہے، تاہم اس کے حقیقی نتائج کا اندازہ آنے والے مہینوں میں ہی ہو سکے گا، جب یہ واضح ہوگا کہ آیا اس اقدام سے پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے یا صحت کے شعبے پر دباؤ مزید بڑھ جاتا ہے۔
