باجوڑ میں مبینہ ڈرون حملہ: 3 جاں بحق، 8 زخمی، تحقیقات کا مطالبہ
باجوڑ: خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں جمعرات کے روز ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں ماموند تحصیل کے علاقے شنکوٹ میں واقع ایک رہائشی مکان پر مبینہ ڈرون حملے کے نتیجے میں تین افراد جاں بحق جبکہ خواتین اور بچوں سمیت آٹھ افراد زخمی ہو گئے۔ اس واقعے کے بعد پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ مقامی شہریوں نے شفاف تحقیقات اور ذمہ داران کے تعین کا مطالبہ کیا ہے۔
مبینہ ڈرون حملے کی تفصیلات
پولیس حکام کے مطابق یہ واقعہ ماموند تحصیل کے علاقے شنکوٹ میں پاکستان چوک کے قریب پیش آیا، جہاں سید ولی جان ولد عجب خان کے رہائشی مکان کو مبینہ طور پر ایک ڈرون نے نشانہ بنایا۔ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ مکان کے مختلف حصے زمین بوس ہو گئے، جبکہ قریبی گھروں میں بھی خوف کی فضا قائم ہو گئی۔ دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی، جس کے بعد مقامی افراد بڑی تعداد میں جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور اپنی مدد آپ کے تحت امدادی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔
جاں بحق اور زخمی ہونے والے افراد
ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) سعید الرحمٰن نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق رہائشی مکان پر مبینہ ڈرون حملہ ہوا، جس کے نتیجے میں تین افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ آٹھ افراد زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جنہیں فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال خار منتقل کر دیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 15 سالہ اسحاق ولد میر زمان، 30 سالہ امتیاز ولد بختیار اور پانچ سالہ منیبہ دختر بختیار شامل ہیں۔ ان اموات نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا ہے، خصوصاً کمسن بچی کی ہلاکت نے لوگوں کو شدید غم و افسوس میں مبتلا کر دیا۔ اہل خانہ اور عزیز و اقارب غم سے نڈھال دکھائی دیے، جبکہ علاقے کی فضا سوگ میں ڈوب گئی۔
عینی شاہدین کے بیانات اور امدادی کارروائیاں
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے کے فوراً بعد ہر طرف گرد و غبار پھیل گیا اور لوگ چیخ و پکار کرتے ہوئے ملبے کی جانب دوڑ پڑے۔ مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت زخمیوں کو ملبے سے نکالا اور ایمبولینسوں کی آمد سے قبل ہی کئی زخمیوں کو نجی گاڑیوں کے ذریعے ہسپتال روانہ کیا۔ بعد ازاں ریسکیو ٹیمیں، پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کے اہلکار بھی موقع پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا۔
نقصان اور تحقیقات کا آغاز
ذرائع کے مطابق دھماکے سے مکان کو شدید نقصان پہنچا جبکہ اردگرد موجود چند دیگر گھروں کی دیواروں اور کھڑکیوں کو بھی نقصان پہنچا۔ تاہم حکام نے نقصان کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں۔ سکیورٹی ادارے جائے وقوعہ سے شواہد جمع کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ دھماکے کی نوعیت کیا تھی اور آیا واقعی یہ ڈرون حملہ تھا یا اس کی کوئی اور وجہ تھی۔
ذمہ داری کا دعویٰ اور حکومتی ردعمل
تاحال کسی سرکاری ادارے نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، نہ ہی حکومت کی جانب سے اس حوالے سے کوئی حتمی بیان جاری کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور فرانزک شواہد، عینی شاہدین کے بیانات اور دیگر دستیاب معلومات کی روشنی میں واقعے کی اصل نوعیت کا تعین کیا جائے گا۔
عوام کا مطالبہ اور سماجی حلقوں کی اپیل
باجوڑ کے عوام نے اس افسوسناک واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور پر شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کرائے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف مل سکے۔ مقامی عمائدین کا کہنا ہے کہ اگر واقعی رہائشی آبادی کو نشانہ بنایا گیا ہے تو اس کی مکمل حقیقت عوام کے سامنے لائی جائے اور ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات نہ صرف انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بنتے ہیں بلکہ مقامی آبادی میں عدم تحفظ کے احساس کو بھی بڑھاتے ہیں۔ بچوں اور خواتین کا متاثر ہونا اس سانحے کو مزید المناک بنا دیتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ زخمیوں کے علاج کے لیے بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور جاں بحق افراد کے لواحقین کی ہر ممکن مالی اور قانونی معاونت کی جائے۔
طبی صورتحال اور امکانی منتقلی
طبی ذرائع کے مطابق زخمیوں میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جبکہ ڈاکٹروں کی ٹیم انہیں مسلسل طبی امداد فراہم کر رہی ہے۔ اگر ضرورت پڑی تو شدید زخمیوں کو پشاور کے بڑے طبی مراکز منتقل کیا جا سکتا ہے۔
ماضی کے واقعات اور سکیورٹی خدشات
یاد رہے کہ باجوڑ ماضی میں بھی مختلف سکیورٹی واقعات اور عسکریت پسندی سے متاثر رہ چکا ہے، تاہم حالیہ عرصے میں ایسے واقعات میں دوبارہ اضافہ مقامی آبادی کے لیے تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقوں میں پیش آنے والے ہر واقعے کی مکمل اور سائنسی تحقیقات ناگزیر ہیں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں اور مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔
تحقیقات کا انتظار اور بے یقینی
دوسری جانب، عوامی حلقے اس واقعے کی شفاف تحقیقات کے منتظر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہوتیں، کسی بھی نتیجے پر پہنچنا مناسب نہیں ہوگا۔ تاہم ایک بات واضح ہے کہ اس سانحے نے کئی خاندانوں کو غم میں مبتلا کر دیا ہے اور متاثرہ علاقے میں خوف و بے یقینی کی فضا پیدا کر دی ہے۔
حکام کی اپیل اور آئندہ کی حکمت عملی
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر مصدقہ اطلاعات اور افواہوں سے گریز کریں اور صرف مستند ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر اعتماد کریں۔ پولیس اور متعلقہ اداروں کا کہنا ہے کہ جیسے ہی تحقیقات میں مزید پیش رفت ہوگی، عوام کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا جائے گا۔
فی الحال باجوڑ کے عوام کی نظریں حکومتی تحقیقات پر مرکوز ہیں، جبکہ زخمیوں کی جلد صحت یابی اور جاں بحق افراد کے لیے دعائیں کی جا رہی ہیں۔ یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ تنازعات اور تشدد کا سب سے بڑا نقصان عام شہریوں، خصوصاً بچوں اور خواتین کو اٹھانا پڑتا ہے، اس لیے ہر ایسے واقعے کی مکمل، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات نہایت ضروری ہیں۔
