بیجنگ میں پاک-چین ٹی ویٹ سمپوزیم: فارما، ہیلتھ کیئر اور بائیو ٹیکنالوجی میں مہارتوں کے فروغ پر زور

بیجنگ (نمائندہ خصوصی)۔ چین کے دارالحکومت بیجنگ میں پاکستانی سفارت خانے کے زیر اہتمام فارماسیوٹیکلز، ہیلتھ کیئر اور بائیوٹیکنالوجی کے شعبوں میں تکنیکی و پیشہ ورانہ تعلیم اور تربیت (TVET) کے موضوع پر ایک اہم سمپوزیم کا انعقاد کیا گیا، جس کا مرکزی عنوان "مہارتوں کی ترقی، صنعتی انضمام اور سرمایہ کاری کی سہولت کاری کے لیے شراکت داری کا فروغ” تھا۔ یہ سمپوزیم رواں ماہ 17 سے 19 جولائی 2026 تک کراچی میں منعقد ہونے والی "پاک-چین بی ٹو بی (B2B) فارماسیوٹیکلز، ہیلتھ کیئر اور بائیوٹیکنالوجی انویسٹمنٹ کانفرنس” کی تیاریوں کے سلسلے میں ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر منعقد کیا گیا۔
تقریب کے آغاز پر چین میں پاکستان کے سفیر، عالی جناب خلیل ہاشمی نے اپنے افتتاحی خطاب میں واضح کیا کہ یہ سمپوزیم پیشہ ورانہ تعلیم کو سرمایہ کاری کے فروغ کے ساتھ جوڑ کر پاک-چین ٹیوٹ (TVET) اقدام کے اگلے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ انہوں نے پاکستان کے جغرافیائی اور آبادیاتی فائدے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ 240 ملین سے زائد آبادی والے ملک پاکستان میں 60 فیصد سے زیادہ لوگ 30 سال سے کم عمر کے ہیں، جس کی بدولت ملک میں فارماسیوٹیکل، ہیلتھ کیئر اور بائیوٹیکنالوجی کی صنعتوں کا علاقائی مرکز بننے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔

سفیرِ پاکستان کا کہنا تھا کہ ان شعبوں میں چین کی غیر معمولی کامیابیاں پاکستان کی صنعتی اور مہارتوں کی ترقی کے لیے ایک بہترین نمونہ ہیں۔ اس اقدام کا مقصد چین کے معروف پیشہ ورانہ اداروں اور کاروباری اداروں کو کراچی کانفرنس میں شرکت کے لیے متحرک کرنا ہے، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ صنعت کی ضروریات کے مطابق مہارتوں کی ترقی، افرادی قوت کی تربیت، اپرنٹس شپ اور طویل مدتی ادارہ جاتی شراکت داری کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ اقدام دو طرفہ حکمت عملی پر عمل پیرا ہوگا جس کے تحت چینی ٹیوٹ اداروں کو بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس کا حصہ بنایا جائے گا اور سی پیک (CPEC) کے دوسرے مرحلے کے تحت پیشہ ورانہ تعلیم، انسانی وسائل کی ترقی اور سرمایہ کاری کی سہولت کاری میں تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے سائیڈ لائنز پر ایک خصوصی "ٹیوٹ پارٹنرشپ فورم” بھی منعقد کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال کا وژن

سمپوزیم سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے پاک-چین لازوال دوستی کی تجدید کی اور حکومت کے "اڑان پاکستان” وژن کے تحت ملک کو صنعت پر مبنی مہارتوں کی ترقی کے ذریعے ایک مسابقتی اور علم دوست معیشت میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے فارماسیوٹیکل، ہیلتھ کیئر اور بائیوٹیکنالوجی کے شعبوں کے لیے مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ افرادی قوت تیار کرنے کے لیے ادارہ جاتی شراکت داری، مشترکہ تربیتی پروگراموں، یونیورسٹیوں اور صنعتوں کے باہمی تعاون، فیکلٹی اور طلبہ کے تبادلوں، سرٹیفیکیشن پروگراموں اور پاک-چین سینٹرز آف ایکسیلنس کے قیام کی اہمیت پر زور دیا۔ اس موقع پر نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (NAVTTC) کی چیئرپرسن محترمہ گلمینہ بلال احمد نے اپنے ویڈیو پیغام میں پاکستانی اور چینی اداروں کے درمیان عملی اور نتائج پر مبنی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان ٹرینرز کی تربیت کے پروگراموں، فیکلٹی کے تبادلوں، وظائف، مشترکہ سرٹیفیکیشن کے راستوں، کاروباری اداروں کے تعاون سے چلنے والے تربیتی اقدامات اور شعبہ وار سینٹرز آف ایکسیلنس میں تعاون کی حوصلہ افزائی کی اور انڈسٹری، سرمایہ کاروں اور پیشہ ورانہ اداروں کو ایک جگہ جمع کرنے پر سفارت خانے کی کوششوں کو سراہا۔

چینی تجربات اور تعاون کی پیشکش
وزارت انسانی وسائل اور سماجی تحفظ کے محکمہ برائے ووکیشنل کیپیسٹی بلڈنگ کی سیکشن چیف محترمہ ژانگ جون ہوا نے کلیدی خطاب پیش کرتے ہوئے فارماسیوٹیکل اور ہیلتھ کیئر کی صنعتوں کے لیے انتہائی ہنر مند افرادی قوت تیار کرنے کے چینی تجربات کو شیئر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وزارت نے فارماسیوٹیکل اور ہیلتھ کیئر کی تعلیم میں مہارت رکھنے والے چین کے پانچ بڑے تکنیکی اداروں کو پاکستان کے ساتھ تعاون کے مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی ہے، اور چین کی جانب سے مشترکہ مہارتوں کی تربیت، ادارہ جاتی تبادلوں اور وسائل کے اشتراک کے ذریعے تعاون کو وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے پاکستانی وفد کو 22 سے 27 ستمبر 2026 تک شنگھائی میں منعقد ہونے والے "48ویں ورلڈ اسکلز مقابلے” میں شرکت کی دعوت بھی دی۔
تعاون کے امکانات اور مستقبل کی امیدیں
سمپوزیم کے دوران چین کے صف اول کے ٹیوٹ اداروں کی جانب سے پریزنٹیشنز دی گئیں، جس کے بعد مہارتوں کی ترقی، پیشہ ورانہ تعلیم اور صنعتی روابط میں پاکستانی ہم منصبوں کے ساتھ تعاون کے امکانات پر تفصیلی اور انٹرایکٹو تبادلہ خیال کیا گیا۔ تقریب کے اختتام پر سفیر خلیل ہاشمی نے پروفیسر احسن اقبال، محترمہ گلمینہ بلال احمد، محترمہ ژانگ جون ہوا اور تمام شریک چینی اداروں کا قیمتی معلومات اور پاک-چین بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس میں گہری دلچسپی ظاہر کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے پاک-چین سماجی و اقتصادی تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے سفارت خانے کے پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ سمپوزیم فارماسیوٹیکل، ہیلتھ کیئر اور بائیوٹیکنالوجی کے شعبوں میں مہارت کی ترقی، صنعتی تعاون اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے ٹھوس شراکت داری کی بنیاد بنے گا۔
