محنت
محمد خالد
امام بخاری نے حضرت مقداد بن معدی کرب سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے بہتر کھانا وہ ہے جو آدمی اپنے دونوں ہاتھوں کی محنت سے حاصل کر کے کھائے «ما أكل أحد طعاماً قطُّ خيراً من أن يأكل من عمل يده»
اسلام مومن کے اندر جو مزاج پیدا کرتا ہے وہ محنت اور عمل کا مزاج ہے۔ مومن کا یہ عقیدہ ہوتا ہے کہ آخرت کی ابدی دنیا میں آدمی کو صرف وہی ملے گا جس کے لیے اس نے واقعۃً عمل کیا ہو «و ليس للانسان الا ما سعى» یہ عقیدہ مومن کو آخرت کے بارہ میں آخری حد تک با عمل بنادیتا ہے، اور جب آخرت کے معاملہ میں اس کے اندر عمل کا مزاج بنتا ہے تو یہی چیز اس کو دنیا کے معاملات میں بھی با عمل بنادیتی ہے۔
مومن مانگ کر لینے کے بجائے کر کے لینا پسند کرتا ہے۔ مومن دوسروں پر انحصار کرنے کے بجائے خود اپنے ہاتھ پاؤں سے عمل کر کے اپنا معاش کماتا ہے۔ مومن آخری حد تک خدا پر بھروسہ کرنے والا ہوتا ہے، اس لیے اس کو گوارا نہیں ہوتا کہ خود محنت نہ کرے اور دوسروں سے ملی ہوئی رعایت پر اپنی زندگی کی تعمیر کرے۔
انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو جسم دیا ہے، وہ ایک اعلیٰ ترین قسم کی زندہ مشین ہے۔ اس کے اندر تحرک کی بہترین صلاحیتیں پوری طرح موجود ہیں۔ مومن اس کو خدا کا قیمتی عطیہ سمجھتا ہے اور قلب اور روح کی تمام گہرائیوں کے ساتھ اس کے لیے خدا کا شکر ادا کرتا ہے۔ شکر گزاری اس کے لیے یہ مزید محرک ہوتی ہے کہ وہ اس عطیہ کو عمل میں لائے، وہ اپنے جسم کو بھرپور طور پر استعمال کرے۔
مومن اپنے عمل کا ذمہ دار خود اپنے آپ کو سمجھتا ہے۔ مومن کی نفسیات اس کے اندر خود بخود محنت کا مزاج پیدا کر دیتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو ذہن اور جسم کی غیر معمولی طاقتیں دی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو تسخیری صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ ایسی حالت میں اپنے ذہن اور جسم کی طاقتوں استعمال نہ کرنا گویا براہ راست اللہ کی ناشکری ہے۔ یہ خدا کے خلاف ایک قسم کا عدم اعتماد ہے۔ مومن اللہ کا شکر کرنے والا اور اللہ پر بھروسہ کرنے والا انسان ہوتا ہے۔ اس کا یہ مزاج اس کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنی ہمہ داریات کے لیے اللہ کی دی ہوئی صلاحیتوں پر اعتماد کر کے نہ کہ اپنے جیسے دوسرے انسانوں کے عطیہ پر۔
مولانا وحیدالدین خاں
بحوالہ کتاب، الربانیہ؛ صفحہ: ۴۹
