قطر کے امیر کی 3.5 کروڑ ڈالر کی لگژری یاٹ ‘الوسیل’ کی اپ گریڈیشن مکمل

دوحہ: قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی ایک بار پھر اپنی شاہانہ طرزِ زندگی کے باعث عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ امریکا کو اپنے زیرِ استعمال بوئنگ 747 طیاروں میں سے ایک تحفے میں دینے کے بعد انہوں نے اپنی 404 فٹ (123 میٹر) طویل سپر یاٹ "الوسیل” کی تزئین و آرائش اور تکنیکی اپ گریڈیشن پر 3 کروڑ 50 لاکھ امریکی ڈالر سے زائد خرچ کیے ہیں۔
بین الاقوامی جریدے Luxurylaunches کے مطابق تقریباً 50 کروڑ ڈالر مالیت کی یہ سپر یاٹ سات ماہ تک جدید ری فِٹ کے عمل سے گزری، جس کے دوران اس کے انجن، جنریٹرز، پروپلشن سسٹم، ایئر کنڈیشننگ، حفاظتی آلات، برقی نظام، ہل (Hull)، پروپیلرز اور دیگر اہم حصوں کی مکمل مرمت اور اپ گریڈیشن کی گئی۔
یاٹ کے بیرونی حصے کو بھی نئے رنگ و روغن، ٹیک ووڈ ڈیک، جدید لائٹنگ اور دیگر آرائشی تبدیلیوں کے ذریعے مزید شاندار بنایا گیا ہے۔
"الوسیل” سپر یاٹ کی تفصیلات
2017 میں جرمن شپ بلڈر Lürssen کی تیار کردہ الوسیل دنیا کی بڑی اور پرتعیش نجی یاٹس میں شمار ہوتی ہے۔ اس میں 18 لگژری سویٹس موجود ہیں، جہاں 36 مہمان قیام کر سکتے ہیں، جبکہ اس کی دیکھ بھال اور آپریشن کے لیے 56 افراد پر مشتمل عملہ تعینات رہتا ہے۔
سپر یاٹ میں ہیلی پیڈ، متعدد سوئمنگ پول، جاکوزی، بیچ کلب، سپا، جم، سنیما، بیوٹی سیلون، باربی کیو ایریا اور دیگر جدید ترین تفریحی سہولیات موجود ہیں، جو اسے دنیا کی ممتاز شاہانہ یاٹس میں شامل کرتی ہیں۔
تکنیکی اپ گریڈیشن اور ایندھن کی تفصیلات
رپورٹ کے مطابق اپ گریڈیشن مکمل ہونے کے بعد یاٹ کے 5 لاکھ لیٹر گنجائش والے فیول ٹینک بھی مکمل طور پر بھر دیے گئے ہیں۔ دو طاقتور MTU ڈیزل انجنوں سے لیس یہ یاٹ تقریباً 35 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر سکتی ہے اور ایک بار ایندھن بھرنے پر تقریباً 4,500 ناٹیکل میل کا سفر طے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں قطر کے شاہی خاندان نے امریکا کو ایک بوئنگ 747 طیارہ تحفے میں دے کر بھی عالمی سطح پر خاصی توجہ حاصل کی تھی، اور اب امیرِ قطر کی سپر یاٹ پر ہونے والے کروڑوں ڈالر کے اخراجات بھی بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی سرخی بنے ہوئے ہیں۔
