پیٹرول بحران 2020: انکوائری کمیشن نے کن خامیوں کی نشاندہی کی؟ چھ سال بعد بھی اہم سوالات برقرار
168 صفحات پر مشتمل تحقیقاتی رپورٹ میں اوگرا، وزارتِ پیٹرولیم، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور نگرانی کے نظام پر سنگین سوالات؛ اصلاحات کی متعدد سفارشات بھی پیش کی گئیں۔
پاکستان میں جون 2020 کے پیٹرول بحران کو ملکی تاریخ کے بڑے انتظامی بحرانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ملک کے مختلف شہروں میں پیٹرول پمپوں پر لمبی قطاریں لگ گئیں، کئی مقامات پر ایندھن دستیاب نہ تھا جبکہ عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
اس بحران کے بعد وفاقی حکومت نے ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کمیشن قائم کیا جس نے تقریباً 168 صفحات پر مشتمل رپورٹ مرتب کی۔ رپورٹ میں بحران کی وجوہات، متعلقہ اداروں کی کارکردگی، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے کردار اور ریگولیٹری نظام کی خامیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اوگرا پر سخت تنقید
کمیشن نے اپنی رپورٹ میں سب سے زیادہ تنقید اوگرا کی کارکردگی پر کی۔
رپورٹ کے مطابق اگرچہ اوگرا 2002 میں قائم ہوئی، لیکن پیٹرولیم سیکٹر کے مؤثر قواعد 2016 میں نافذ ہوئے۔ کمیشن کے مطابق اس دوران ریگولیٹری نگرانی مؤثر انداز میں قائم نہ ہو سکی اور قوانین پر عملدرآمد کمزور رہا۔
کمیشن نے یہاں تک سفارش کی کہ اوگرا کے موجودہ ڈھانچے پر نظرثانی کی جائے اور ریگولیٹری نظام کو مکمل طور پر ازسرنو ترتیب دیا جائے۔
لازمی ذخائر برقرار نہ رکھنے کا انکشاف
پاکستان آئل رولز 2016 کے تحت آئل مارکیٹنگ کمپنیوں پر لازم ہے کہ وہ کم از کم 20 روز کا اسٹریٹجک ذخیرہ برقرار رکھیں۔
کمیشن نے قرار دیا کہ بیشتر کمپنیوں نے یہ شرط پوری نہیں کی، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور درآمدی مسائل کے دوران ملک میں مصنوعی قلت پیدا ہوگئی۔
عالمی قیمتیں کم تھیں، مگر پاکستان فائدہ نہ اٹھا سکا
رپورٹ کے مطابق مارچ 2020 میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں تاریخی حد تک کم ہو چکی تھیں، تاہم درآمدی فیصلوں، کوٹہ سسٹم اور انتظامی کمزوریوں کے باعث پاکستان اس موقع سے مکمل فائدہ نہ اٹھا سکا۔
مصنوعی قلت اور ذخیرہ اندوزی
کمیشن نے متعدد آئل مارکیٹنگ کمپنیوں پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے مطلوبہ مقدار میں سپلائی نہیں دی، اسٹاک برقرار نہیں رکھا اور بعض صورتوں میں مصنوعی قلت پیدا ہونے دی۔
رپورٹ کے مطابق اس صورتحال کی بروقت روک تھام اوگرا کی ذمہ داری تھی، مگر مؤثر نگرانی نہ ہونے کے باعث بحران شدت اختیار کر گیا۔
وزارتِ پیٹرولیم بھی تنقید کی زد میں
کمیشن نے صرف اوگرا ہی نہیں بلکہ وزارتِ پیٹرولیم کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ پالیسی سازی، نگرانی اور بحران سے نمٹنے کے دوران متعدد انتظامی فیصلے غیر مؤثر ثابت ہوئے اور متعلقہ حکام اپنی ذمہ داریاں پوری طرح ادا نہ کر سکے۔
ڈی جی آئل کی تعیناتی پر اعتراض
رپورٹ میں اس وقت کے ڈی جی آئل کی پیشہ ورانہ اہلیت پر بھی سوال اٹھایا گیا۔
کمیشن نے نشاندہی کی کہ اس اہم تکنیکی عہدے پر ایسے افسر کی تعیناتی تھی جس کا بنیادی پیشہ ویٹرنری میڈیسن تھا، جبکہ اس نوعیت کے عہدے کے لیے پیٹرولیم شعبے میں مہارت ضروری سمجھی جاتی ہے۔
Byco کیس
رپورٹ میں Byco سے متعلق مبینہ مالی بے ضابطگیوں کا بھی ذکر موجود ہے۔
کمیشن نے لکھا کہ کمپنی سے متعلق اربوں روپے کے مبینہ فراڈ کے معاملات اور بعد ازاں ہونے والی پلی بارگین بھی سوالات کو جنم دیتی ہے، جن پر مزید قانونی کارروائی کی ضرورت تھی۔
اصلاحات کی سفارشات
کمیشن نے متعدد سفارشات پیش کیں، جن میں:
- اوگرا کے ریگولیٹری نظام میں بنیادی اصلاحات
- آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی سخت نگرانی
- لازمی ذخائر پر سختی سے عملدرآمد
- غیر قانونی لائسنسنگ اور خلاف ورزیوں پر کارروائی
- پیٹرولیم قوانین کا ازسرنو جائزہ
- متعلقہ افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی
شامل تھیں۔
چھ سال بعد سوال برقرار
اگرچہ اس رپورٹ نے پاکستان کے پیٹرولیم سیکٹر میں موجود کئی انتظامی، ریگولیٹری اور کاروباری کمزوریوں کی نشاندہی کی، لیکن آج بھی بنیادی سوال یہی ہے کہ رپورٹ میں دی گئی سفارشات پر کس حد تک عملدرآمد ہوا؟
اگر ریگولیٹری نگرانی، ذخیرہ اندوزی کی روک تھام، شفاف لائسنسنگ اور جوابدہی کے نظام میں مؤثر اصلاحات نہ کی جائیں تو مستقبل میں ایسے بحران دوبارہ جنم لے سکتے ہیں۔
ایڈیٹرز نوٹ: اس رپورٹ میں صرف وہ نکات شامل کیے گئے ہیں جن کی تائید سرکاری انکوائری رپورٹ یا معتبر ذرائع سے ہوتی ہے۔ جن الزامات یا اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں، انہیں بطور حتمی حقیقت پیش نہیں کیا گیا۔
