مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
جمعہ، 2 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 429,210 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $85,385 USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 429,210 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $85,385
تازہ ترین

ایچ ای سی کی بزنس پروگرامز کے خلاف سخت کارروائی: داخلے معطل کرنے اور ڈگریاں تسلیم نہ کرنے کی وارننگ

📅 ہفتہ، 27 جون 2026 ✍️ Dost news ⏱ 2 منٹ
ایچ ای سی کی بزنس پروگرامز کے خلاف سخت کارروائی: داخلے معطل کرنے اور ڈگریاں تسلیم نہ کرنے کی وارننگ
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) نے ملک بھر کی جامعات اور ڈگری دینے والے اداروں میں بغیر منظوری کے چلنے والے بزنس پروگرامز کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کرتے ہوئے نئے داخلے معطل کرنے کی وارننگ جاری کر دی ہے۔ ایچ ای سی کی جانب سے جاری کردہ حالیہ ایڈوائزری کے مطابق، تمام جامعات کے لیے بزنس، مینجمنٹ سائنسز، کامرس اور پبلک ایڈمنسٹریشن کے تعلیمی پروگراموں کو ‘نیشنل بزنس ایجوکیشن ایکریڈیٹیشن کونسل’ (NBEAC) سے منظور کروانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

کمیشن کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ کئی ادارے اب بھی ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بغیر ایکریڈیٹیشن کے طلبہ کو داخلے دے رہے ہیں، جس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام متعلقہ شعبہ جات اور بزنس اسکولز کو فال 2027 تک کونسل کے مقررہ معیار کے مطابق رجسٹریشن کا عمل ہر صورت مکمل کرنے کی مہلت دی گئی ہے۔ مقررہ مدت کے اندر منظوری نہ لینے والے اداروں کے خلاف سخت ضابطہ جاتی کارروائی کی جائے گی، جس میں نئے داخلوں پر پابندی اور عوام کو باخبر رکھنے کے لیے انتباہی نوٹس جاری کرنا بھی شامل ہے۔

اس کے ساتھ ہی ایچ ای سی نے طلبہ اور والدین کو ہدایت کی ہے کہ وہ کسی بھی بزنس پروگرام میں داخلے سے قبل اس کی کونسل سے منظوری لازمی چیک کریں، کیونکہ غیر منظور شدہ پروگرامز سے حاصل کردہ ڈگریوں کی قانونی حیثیت، تصدیق اور مستقبل میں ملازمت یا اعلیٰ تعلیم کے حصول میں شدید مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ کمیشن کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد ملک میں کاروباری تعلیم کے معیار کو عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا اور پاکستانی گریجویٹس کی ملکی و بین الاقوامی سطح پر پیشہ ورانہ ساکھ کو مضبوط بنانا ہے۔

ٹیگز: #ایچ ای سی #بزنس پروگرامز #تعلیمی معیار #داخلے #ڈگریاں
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں