بیجنگ: بلند ترین سی آئی ٹی آئی سی ٹاور سے طیارہ ٹکرانے سے عمارت کو نقصان

بیجنگ (خصوصی نامہ نگار)۔ چین کے دارالحکومت بیجنگ میں جمعرات کی شام ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا جب ایک چھوٹا طیارہ شہر کی بلند ترین عمارت سی آئی ٹی آئی سی ٹاور (چائنا زُن) سے ٹکرا گیا۔ اس حادثے کے بعد پولیس، فائر بریگیڈ اور امدادی اداروں نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور عمارت سے لوگوں کو بحفاظت باہر نکالنا شروع کر دیا۔
عینی شاہدین کے مطابق، ٹکرانے والا طیارہ تقریباً ایک کار کے سائز کا تھا۔ اس خوفناک ٹکر کے نتیجے میں عمارت کی اوپری منزلوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور طیارے کا ملبہ عمارت کے ارد گرد سڑک پر بکھر گیا۔
تاہم، چینی حکام کی جانب سے تاحال کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی باضابطہ طور پر تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ یہ بھی واضح نہیں کیا گیا ہے کہ حادثے کے وقت طیارے میں کتنے افراد سوار تھے۔ حادثے کی وجوہات بھی تاحال نامعلوم ہیں اور متعلقہ حکام کی جانب سے تحقیقات کا عمل جاری ہے۔
اس حادثے کے بعد، پولیس نے اطراف کی متعدد سڑکوں کو بند کر دیا تاکہ امدادی کارروائیوں میں آسانی ہو سکے۔ لوگوں کو حادثے کی تصاویر اور ویڈیوز بنانے سے روکا گیا اور کچھ افراد سے ریکارڈ کی گئی ویڈیوز کو حذف کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔ چینی سوشل میڈیا پر اس واقعے سے متعلق سامنے آنے والی پوسٹس کو بھی تیزی سے ہٹایا جا رہا ہے۔
سی آئی ٹی آئی سی ٹاور (چائنا زُن) کی تفصیلات
واضح رہے کہ سی آئی ٹی آئی سی ٹاور، جسے چائنا زُن کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، بیجنگ کی سب سے بلند عمارت ہے۔ یہ 528 میٹر بلند ہے اور اس میں 108 منزلیں ہیں۔ یہ عمارت بیجنگ کے اہم تجارتی اور کاروباری مراکز میں شمار ہوتی ہے۔
