اسلام آباد: انسانی اعضاء کی غیر قانونی فروخت پر 5 افراد گرفتار، مقدمہ درج

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے اسلام آباد میں انسانی اعضاء، بالخصوص انسانی پلیسینٹا کی غیر قانونی پراسیسنگ اور بیرون ملک بھیجنے کے الزام میں تین چینی شہریوں سمیت پانچ افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
ایف آئی اے کے کارپوریٹ کرائم سرکل اسلام آباد میں ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی (HOTA) کی ایڈمن آفیسر حنا کنول کی درخواست پر درج کیے گئے اس مقدمے کے مطابق، ملزمان انسانی پلیسینٹا کو پراسیس کر کے بین الاقوامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کا مکروہ دھندہ کر رہے تھے۔
ایف آئی اے نے فوری کارروائی کرتے ہوئے پانچ مشتبہ افراد کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا، جن میں تین چینی اور دو پاکستانی شہری شامل ہیں۔ ان کے قبضے سے بڑی مقدار میں انسانی پلیسینٹا، پراسیسنگ کے لیے استعمال ہونے والی مشینری اور کیمیکلز بھی برآمد کیے گئے ہیں۔
پولیس ذرائع سے حاصل ہونے والی اطلاعات کے مطابق، انسانی اعضاء کی یہ غیر قانونی سرگرمیاں اسلام آباد کے پوش علاقے سیکٹر ای-11 میں واقع ایک خفیہ فیکٹری میں انجام دی جا رہی تھیں۔
ابتدائی تفتیش کے دوران یہ سنگین انکشاف ہوا ہے کہ یہ گروہ انسانی پلیسینٹا کو ‘شیپ پلیسینٹا’ (بھیڑ کا لعاب) کے نام سے ظاہر کر کے غیر قانونی طور پر بیرون ملک بھیج رہا تھا۔ اس گھناؤنی واردات کے پیچھے ایک منظم نیٹ ورک کے ملوث ہونے کا شبہ ہے۔
فی الحال، گرفتار ہونے والے ملزمان سے مزید تفتیش کا عمل جاری ہے اور اس غیر قانونی نیٹ ورک کے دیگر ملوث افراد کو بے نقاب کرنے اور گرفتار کرنے کے لیے ملک بھر میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ حکام نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اس انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا۔
